Urdu book · تعمیر انسانیت

اتحاد انسانیت

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

اتحاد انسانیت ایک مغربی فلسفی نے کہا ہے کہ انسانیت کی تاریخ لڑائی جھگڑے کے رجسٹر سے کچھ ہی کم ہے۔ مزید یہ کہ دنیا کی اکثر لڑائیاں مذہب کے نام پر پیش آئیں ۔ اس کو دیکھ کر بہت سے مفکرین نے یہ رائے قائم کرلی کہ انسانوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی سب سے بڑی وجہ مذہب ہے۔ کارل مارکس جیسے بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ انسانیت کے درمیان امن قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مذہب کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس قسم کی رائے محض ایک دیوانگی ہے نہ کہ کوئی واقعی رائے۔ دوسری قسم کے مفکرین وہ ہیں جنہوں نے اس مسئلہ کا حل یہ بتایا کہ مذہب کے نام پر جھگڑے غیر ضروری ہیں۔ کیوں کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ ہر مذہب یکساں طور پر سچا ہے۔ مختلف مذاہب گویا مختلف راستے ہیں جو ایک ہی مشترک منزل کی طرف جاتے ہیں۔ اس نظریہ کو کسی نے تعدد کے درمیان وحدت (unity in diversity) سے تعبیر کیا۔ اور کسی نے اس کو توحید حقیقت (oneness of reality) کا نام دیا۔ ان حضرات کا خیال ہے کہ اگر مذاہب کے بارے میں اس اشتراکی نقطہ نظر کو مان لیا جائے تو اس کے بعد تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور انسانی سماج میں مکمل امن قائم ہو جائے گا۔ مگر یہ حل نادرست بھی ہے اور بے فائدہ بھی اور اسی کے ساتھ ناقابل عمل بھی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اصل مسئلہ مذاہب کے درمیان یکسانیت تلاش کرنے کا نہیں ہے بلکہ حاملین مذاہب یا انسانوں کے درمیان یکسانیت تلاش کرنے کا ہے۔ چند نکات ۱۔ مختلف مذاہب کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ ایک مذہب کے اعتقادات اور دوسرے مذہب کے اعتقادات میں ایسے بنیادی فرق موجود ہیں جو اس دعویٰ کی کھلی تردید کرتے ہیں کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page