اتحاد انسانیت
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام مذاہب ایک ہیں۔ خدا، پیغمبر، الہام، زندگی اور موت، ہر ایک کے بارے میں مختلف مذاہب میں الگ الگ تصورات پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ کہنا کہ تمام مذاہب ایک ہیں، ایک ایسی بات ہے جس کو خود مذاہب کبھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ ۲۔ مذاہب کے درمیان اختلاف ہونا کوئی برائی نہیں بلکہ یہ ایک خوبی کی بات ہے اس دنیا میں ذہنی اور فکری ترقیاں اختلافات کے ذریعہ ہی وجود میں آتی ہیں۔ جب ایک معاملہ میں دو رائیں سامنے آتی ہیں تو فطری طور پر دونوں طرف سے مباحثہ شروع ہو جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان افکار کا ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اس بحث و تکرار کے ذریعہ نئے نظریات سامنے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ اصل حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ علم کی پوری تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے کہ اختلاف ہی کے ذریعہ تمام فکری ترقیاں ظہور میں آئیں۔ مثال کے طور پر شمسی نظام کے بارے میں قدیم زمانہ میں دو مختلف نظریے پیش کئے گئے۔ ار سٹار کس نے کہا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ دوسرا نظریہ ٹالمی کا تھا جس نے کہا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اگر یہ مان لیا جاتا کہ یہ دونوں ہی نظریے درست ہیں۔ دونوں ایک ہی مشترک حقیقت کا اظہار ہیں۔ تو نظام فلکی کے بارے میں اصل حقیقت واضح ہو کر کبھی سامنے نہ آتی۔ مگر اہل علم کے درمیان دونوں نظریات پر بحثیں ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ آخر کار ایک نظریہ کا درست ہونا واضح طور پر سامنے آگیا۔ اختلاف سچائی تک پہنچنے کا زینہ بن گیا۔ علم کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ رایوں کا اختلاف ہمیشہ ذہنی ترقی کا سبب بنتا ہے۔ مذہب کا معاملہ بھی عین یہی ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب ایک ہیں تو اس کے بعد مذہب کے دائرے میں بحث اور ڈائیلاگ کا دروازہ بند ہو جائے گا، اور اسی کے ساتھ مذہبی افکار میں ترقی کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لئے بند پڑا رہے گا۔ انسان اُس حقیقت کی دریافت سے محروم رہ جائے گا جس کی دریافت کے بغیر انسانیت کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ ۳۔ ”تمام مذاہب سچے ہیں“ کا نظریہ خود مذہب کی ضد ہے۔ مذہب یقین کا سر چشمہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader