Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر پایا جاتا تھا۔ پہلے ایک جھوٹ بولنے پر یہڈ هشتر کا اُڑنے والا تھ زمین پر گر پڑتا تھا، مگر آج کے یہڈ هشتر صبح و شام جھوٹ بولتے ہیں اس کے باوجود ان کار تھ نہایت تیزی کے ساتھ بلند فضاؤں میں اُڑ رہا ہے۔ ماضی کے برعکس، آج کا ہندوستانی سماج صرف ایک کرپشن (بھرشٹاچار) کا سماج بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے اندر انقلابی روح کبھی بھی "ماضی کی طرف واپسی" سے نہیں پیدا ہوتی۔ یہ صرف جدید کی دریافت سے پیدا ہوتی ہے۔ انقلابی شخصیت کا ظہور قدیم کی طرف واپسی سے نہیں ہو تا بلکہ جدید کی طرف اقدام سے ہوتا ہے اور احیائی تحریک اپنی آخری تعریف کے مطابق صرف قدیم کی طرف واپسی کے ہم معنی ہے۔ وہ جدید کی دریافت یا جدید کی طرف اقدام کے ہم معنی بلاشبہ نہیں۔ سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ ہندو قوم ورلڈ لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ مگر یہ انقلابی واقعہ "احیا ماضی" جیسی کسی تحریک کے ذریعہ ظہور میں نہیں آسکتا جیسا کہ اب تک نہیں ہوا۔ ایسا واقعہ جب بھی پیش آئے گاوہ جدید کی دریافت یا نئے فکری انقلاب کے ذریعہ ہو گا۔ خواہ یہ فکری انقلاب مذہبی کنورژن کی صورت میں ہو یا سیکولر کنورژن کی صورت میں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کنورژن کا یہ واقعہ صرف انفرادی سطح پر نہ ہو بلکہ عوامی سطح پر ہو۔ اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی قوم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے اور تاریخ عالم میں اپنا نام روشن کرے۔ خلاصہ یہ کہ کنورژن محدود طور پر مذہب ہی تبدیلی کا معاملہ نہیں، یہ دریافت نو کا معاملہ ہے۔ اور نفسیات اور تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی فرد یا کسی قوم کو متحرک کرنے کے لئے نیز اس کے اندر اخلاقی انقلاب لانے کے لئے سب سے زیادہ جو چیز مؤثر ہوتی ہے وہ یہی دریافت (discovery) ہے۔ یہ احساس کہ میں نے ایک ایسی سچائی دریافت کی ہے جو اب تک مجھے معلوم نہ تھی انسان کی تمام سوئی ہوئی طاقتوں کو جگا دیتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی سطح سے اٹھ کر ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page