Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

تصادم مختلف مذاہب سے ہوا۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے پہلے فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک درجہ بن بڑے بڑے مذاہب کا مطالعہ کیا۔ آخر میں وہ ایک فکری دریافت تک پہنچے۔ انھوں نے اپنے آبائی مذہب ہند و ازم کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ اور اپنا نام عزیز الدین رکھا۔ انھوں نے اپنے اس فکری ارتقاء کی داستان ایک کتاب کی صورت میں لکھی ہے جس کا نام یہ ہے : Why I have Embraced Islam یہ انٹریفتھ کنورزن کی ایک مثال ہے۔ یہ کنورزن کوئی یک طرفہ عمل نہیں ہے۔ یہ دو طرفہ بلکہ کئی طرفہ طور پر چلتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں کچھ ہندوؤں نے اپنا مذہب بدل کر مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا ہے جب کہ یورپ اور امریکہ میں ہزاروں مسیحی اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہندو بن گئے۔ آج انگریزی میں نکلنے والا سب سے بڑا ہندو اخبار انڈیا ابراد (India Abroad) ہے جو امریکہ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کا مالک اور ایڈیٹر ایک ہندو کنورٹ ہے۔ انھوں نے مسیحیت کو چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیا اور پھر انھوں نے یہ کثیر الاشاعت ہندی اخبار نکالا۔ کسی قوم کو دوبارہ اٹھانے کے لئے عام طور پر تحریک احیاء (revivalism) پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ یعنی قوم کے ماضی کو یاد دلا کر اس کو دوبارہ زندہ کرنا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کی احیائی تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ تاریخ میں غالباً کوئی ایک بھی قابل ذکر مثال موجود نہیں جب کہ صرف احیائے ماضی کی تحریک کے ذریعہ کوئی قوم دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہو کر کھڑی ہو گئی ہو۔ اس کی ایک مثال ہندوستان ہے۔ ہندوستان میں ہندو قوم کو بیدار کرنے کے لئے پچھلے کئی سو سال سے مسلسل احیائی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس میں بہت بڑی بڑی شخصیتوں کے نام ہیں۔ راجہ رام موہن رائے، سوامی وویکانند، آرووند و، مہاتما گاندھی وغیرہ۔ مگر لمبی مدت کی جدوجہد کے باوجود اس رخ پر ایک فیصد بھی کامیابی نہ ہو سکی۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اس کا الٹا نتیجہ برآمد ہوا۔ آزادی کے دور میں پہنچ کر ہندو سماج میں اخلاقی اقدار کا وہ نظام بھی باقی نہ رہا جو پہلے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page