Urdu book · تعمیرملت

جو شخص ہار کو مان لے وہی تیاری کر کے دوبارہ اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہوتا ہے

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

قسم کی درزشوں میں لگے رہتے۔ اگست میں، مقابلہ کی تاریخ سے کچھ پہلے، انھوں نے ڈیریلیک (پینسلوانیہ) میں اپنے کھیل کا مظاہرہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ ۱۵ ستمبر کے مقابلہ میں دوبارہ ٹائٹل جیت لوں گا۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ۳۶ سالہ علی آج کل اپنے باکسنگ سنٹر پر زبردست تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ بے حد سنجیدہ ہو گئے ہیں۔ اخباری رپورٹ کا ایک جملہ یہ تھا۔ Members of the Ali entourage insist that they have never seen Ali work so hard. The Times of India 17.8.78 محمد علی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے محمد علی کو اتنا سخت محنت کرتے ہوئے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اس طرح محنت اور تیاری کے چھ سخت ہفتے گزارنے کے بعد محمد علی نے ۱۶ ستمبر ۱۹۷۸ء کو دوبارہ لیون اسپینکس سے مقابلہ کیا اور اس کے اوپر شان دار فتح حاصل کی۔ اسپینکس فتح کے بعد عیاشیوں میں پڑ گیا حتیٰ کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں پولیس نے اس کا چالان کیا۔ جب کہ محمد علی برابر اپنی تیاریوں میں مشغول رہا۔ ہار کو مان لینا اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ یہ حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ یہ جھوٹ کو چھوڑ کر سچائی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ جو شخص اپنی ہار مان لیتا ہے، اس کے اندر حقیقت پسندانہ نفسیات ابھرتی ہیں ۔ وہ سنجیدگی کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو سمجھ کر دوبارہ اپنی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ وہ حریف کے خلاف لفظی طوفان اٹھانے کے بجائے حقیقی میدان میں اس کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں کرتا ہے۔ ایک طرف اس کا حریف فتح کی خوشی میں مگن ہوتا ہے۔ دوسری طرف یہ اپنی شکست کے احساس کو لئے ہوئے سنجیدہ تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے ۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص مقابلہ کے میدان میں ہار گیا تھا وہ دوبارہ اپنے حریف کو شکست دے کر کامیاب ہو جاتا ہے۔ مکان نیچے سے اٹھایا جاتا ہے نہ کہ اوپر سے زمین کو انسان کی قیام گاہ بنایا گیا ہے ۔ مگر وہی قیام گاہ زمین کے اوپر کھڑی ہوتی ہے جس کی تعمیر کو بنیاد سے شروع کر کے چھت تک پہنچایا گیا ہو۔ کوئی شخص چھت کی طرف سے اپنا مکان بنانا شروع کر دے تو خدا کی زمین ایسے مکان کو قبول کرنے سے انکار کر دے گی ۔ یہ اس دنیا کی ایک اٹل حقیقت ہے ۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ جب ملت کی تعمیر کا سوال آتا ہے تو لوگ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں ۔ وہ چھت کی طرف سے ملت کا محل اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ خواہ ان کا محل بالآخر زمین بوس ہو کر مایوسی اور بے یقینی کے ملبہ کے سوا ان کے لیے کچھ اور نہ چھوڑے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page