Urdu book · تعمیرملت

جو شخص ہار کو مان لے وہی تیاری کر کے دوبارہ اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہوتا ہے

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

جو شخص ہار کو مان لے وہی تیاری کر کے دوبارہ اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہوتا ہے ۱۵ فروری ۱۹۷۸ء کو ساری دنیا نے حیرت کے ساتھ یہ خبرسنی کہ باکسنگ کے مشہور چمپین محمد علی کو ایک غیر معروف کھلاڑی لیون اسپینکس نے ہرا دیا۔ اب محمد علی کے لئے ایک راستہ وہ تھا جو عام طور پر ہارے ہوئے سیاستدان اختیار کرتے ہیں۔ وہ ایک اخبار نکال کر ججوں کی دھاندلی" کا شور مچاتے۔ اپنے پر جوش حامیوں کو لے کر اسپینکس کے خلاف ایجی ٹیشن چلاتے اور اس کو قتل کرنے یا اس پر مقدمہ چلانے کی کوشش کرتے۔ خود ساختہ طور پر یا ایک لقب وضع کر کے اپنے نام کے ساتھ لگا لیتے اور سمجھتے کہ وہ اب بھی کہیں کی دنیا کے ”امام“ ہیں۔ محمد علی اگر اس قسم کا راستہ اختیار کرتے تو اس کے لئے ان کے پاس پیسہ بھی تھا اور اعوان و انصار بھی۔ مگر اس قسم کے تمام طریقوں کو چھوڑ کر انھوں نے محنت ومشقت اور خاموش تیاری کا طریقہ اختیار کیا۔ ہارنے کے بعد پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت، محمد علی نے فروری ۱۹۷۸ء کے تیسرے ہفتہ میں بنگلہ دیش کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ ان کو بنگلہ دیش کی اعزازی شہریت دی گئی اور ان کو امریکہ میں بنگلہ دیش کا اعزازی قونسل جنرل بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر ۲۲ فروری کو ڈھاکہ کی ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری نمائندہ نے محمد علی سے پوچھا کہ لیون اسپنکس سے مقابلہ میں بچوں کے فیصلے کو کیا وہ صحیح فیصلہ سمجھتے ہیں۔ محمد علی نے صاف لفظوں میں کہا : یہ ایک بے لاگ فیصلہ تھا۔ علی نے صاف لفظوں میں اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا : میں نے اپنے حریف کو سمجھنے میں غلطی کی اور اس سے غلط جنگ لڑی۔ میری منصوبہ بندی صحیح نہیں تھی کیوں کہ میں اسپنکس کے بارے میں کچھ زیادہ جانتا نہ تھا۔ محمد علی نے اب اپنی زندگی کا نیا نظام بنایا اور باقاعدہ تیاری میں لگ گئے۔ وہ دن بھر دوڑتے ، پہاڑیوں پر چڑھتے۔ بھری ہوئی بوری میں گھونسے مار مار کر اپنے ہاتھوں کی تربیت کرتے۔ اپنے ساتھیوں سے آزمائشی مقابلے کرتے ، اور اسی کے ساتھ عبادت کر کے دعا بھی کرتے کہ خدا انہیں اگلے مقابلہ میں کامیاب کرے۔ محمد علی کی عمر ۳۶ سال ہے اور ان کے حریف لیون اسپنکس کی عمر ۲۵ سال ، یعنی دونوں کی عمر میں گیارہ سال کا فرق ہے۔ مبصرین کا خیال تھا کہ محمد علی کی عمر ان کے لئے فیصلہ کن ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے نوجوان حریف سے دوبارہ جیت نہیں سکتے۔ مگر محمد علی نے پورے جوش اور اہتمام کے ساتھ اپنی تیاریاں جاری رکھیں۔ وہ روزانہ صبح ۵ بجے اٹھ کر تین میل پہاڑی راستہ پر دوڑتے جب کہ ابھی اندھیرا چھایا ہوا ہوتا اور لوگ اپنے نرم بستروں پر سوئے ہوئے ہوتے ۔ اس کے بعد سارے دن سخت ترین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page