Urdu book · تعمیرملت

لفظی تسکین کی قیمت بہت مہنگی دینی پڑی

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

چلنا ہی ہے جو کی شکاری آگ جلا کر کے صحیح سمت میں ہو جانور سمجھ کر بندوق چلانے والے شکاری کوئی شکاری اگر جانور کے سایہ کو جانور سمجھ کر بندوق چلا دے تو اس کی گولی اپنا نشانہ کھو دے گی، کارتوس خالی کرنے کے بعد بھی وہ اپنی مطلوبہ چیز سے محروم رہے گا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو زندگی کا نصب العین مقرر کرنے میں غلطی کر جائیں۔ اگر آپ نے نصب العین کا تعین صحیح نہیں کیا ہے تو آپ کی ساری کوششیں اور قربانیاں اسی طرح رائیگاں چلی جائیں گی جس طرح کوئی شکاری غلط نشانہ پر بندوق چلا دے اور بالآخر اس کے حصہ میں خالی کارتوس کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ اس میں نصیحت ہے انگلستان میں یہ قانون ہے کہ جانور کو ذبح نہ کیا جائے بلکہ کرنٹ کے ذریعہ ہلاک کیا جائے۔ اور اگر ذبح کیا جائے تو پہلے جانور کو بیہوش کر لیا جائے۔ مگر دونوں صورتوں میں ذبح کے اسلامی حکم پر عمل نہیں ہوتا۔ تاہم پچھلے دس سال سے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کو ذبیحہ کی اجازت مل گئی ہے، برمنگھم میں ۱۹۶۰ء سے ایک حلال میٹ کمپنی قائم ہے۔ اس کا کام اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس وقت روزانہ تین ہزار سے چار ہزار تک جانور اور ۱۸ ہزار مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں۔ اس کا اسٹاف ۷۵ لوگوں پر مشتمل ہے۔ مطابق جانور ذبح کرتا ہے۔ یہ یہود کا فرقہ ہے۔ حکومت ان سے تعرض نہیں کرتی۔ ایک وجہ ان کی اقتصادی سیاسی اہمیت ہے۔ ان کا معیار بھی خاصا اونچا ہے۔ بلکہ دراصل اس فرقہ کے ساتھ رعایت ہی کی وجہ سے یہاں پر ذبیحہ کی اجازت مل سکی ہے۔“ الحسنات رام پور فروری ۱۹۷۸ء صفحہ ۲۷۷ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ اغیار کے پیدا کردہ حالات کس طرح کبھی اسلام کے لئے مفید بن جاتے ہیں۔ اسی طرح کبھی اس کے برعکس صورت حال بھی پیش آتی ہے۔ یعنی مسلمان اپنی نادانی سے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں برطانیہ میں ہماری یہ حالت ہے کہ یہاں کے پادری برطانیہ کے ایک مسلمان اقبال مسعود ندوی لکھتے ہیں : "یہاں ایک اور فرقہ ہے جو اپنے طریقے کے کہ اسلام کے لئے موافق حالات برباد ہو جائیں۔ ایک ایسی جدوجہد جو اسلام کے نام پر کی گئی ہو، بالآخر وہ غیر اسلامی نتیجہ پر ختم ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page