لفظی تسکین کی قیمت بہت مہنگی دینی پڑی
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظی تسکین کی قیمت بہت مہنگی دینی پڑی جنگِ عظیم ثانی میں آخری شکست سے کچھ ماہ پہلے جاپانی لیڈر یہ سمجھ چکے تھے کہ وہ بازی ہار چکے ہیں۔ اتحادی طاقتوں کی طرف سے ۲۶ جولائی ۱۹۴۵ کو پوٹڈم ڈکلیریشن جاری کیا گیا تو وہ ذہنی طور پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہو چکے تھے۔ جاپانی پارلیمنٹ کی خواہش تھی کہ اس ڈکلیریشن کی بنیاد پر اتحادی طاقتوں سے امن کی گفتگو شروع کی جائے۔ باضابطہ فیصلہ سے پہلے ۲۸ جولائی کو جاپانی وزیر اعظم سوزوکی (SUZUKI) نے ایک پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے پریس کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی کابینہ مو کوستسو (MOKU SATS U) کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ مو کوستسو ایک جاپانی لفظ ہے جس کا کوئی قطعی متبادل انگریزی زبان میں نہیں ہے۔ حتی کہ خود جاپانی میں بھی وہ ایک غیر واضح لفظ ہے۔ اس کا ایک مفہوم "تبصرہ سے رکنا" ہے۔ اور اغلب آجاپانی وزیرِ اعظم کی مراد یہی تھی۔ مگر خود جاپانی زبان ہی میں اس لفظ کا ایک اور مفہوم بھی ہے، اور وہ ہے نظر انداز کرنا۔ جاپانی وزیرِ اعظم کو کابینہ کی طرف سے جس بیان کی ہدایت کی گئی تھی، وہ یہ تھا کہ جاپانی کابینہ پوٹڈم ڈکلیریشن کے معاملہ میں ابھی کسی فیصلہ پر نہیں پہنچی ہے۔ مگر انھوں نے پریس کانفرنس میں جو لفظ استعمال کیا وہ سننے والے اخبار نویسوں کے لئے مبہم ثابت ہوا۔ جاپان کی ڈومی نیوز ایجنسی نے وزیرِ اعظم کے بیان کا جو انگریزی ترجمہ نشر کیا اس میں مو کو ستسو کا ترجمہ IGNORE کے لفظ سے کیا گیا۔ ایک لفظ کے دو ممکن مفہوم میں سے سخت تر مفہوم کے انتخاب کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ ۵۴ - ۱۹۳۳ء کے جاپان میں جنگی جنون کا جو ماحول تھا، اس میں "نظر اندازی" کا تصور عوامی ذوق کے زیادہ مطابق تھا۔ جاپان کے قومی حوصلوں کے لئے اس میں زیادہ تسکین مل رہی تھی۔ مگر اس لفظی تسکین کی قیمت جاپان کو بہت مہنگی ادا کرنی پڑی۔ اتحادی طاقتوں کے دفاتر میں جب یہ نشر یہ سنا گیا تو انھوں نے سمجھا کہ جاپانیوں نے پوٹس ڈرم ڈکلیریشن کو نظر انداز کر دیا ہے۔ چند دن بعد ہی جاپان پر دو اٹم بم گرائے گئے اور ہیروشیما اور ناگاساکی تباہ ہو گیا۔ دو لاکھ انسان فوراً مر گئے اور بے شمار لوگ خطرناک طور پر زخمی ہوئے۔ یہ انکشاف کا سو کوائی (KASUO KAWAI) نے کہا ہے جو اس سے پہلے جاپان کے طاقتور اخبار پن ٹائمز (NIPPON TIMES) کے ایڈیٹر تھے۔ پلین ٹرو تھے ، دسمبر ۱۹۷۰ء یہ کوئی ایک واقعہ نہیں جو صرف جاپان کے ساتھ پیش آیا ہو۔ افراد یا قوموں کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی معاملہ کو سکھ کا معاملہ بنا لیتے ہیں وہ حقیقت پسندی کی زبان بولنے پر تیار نہیں ہوتے۔ وہ کمزور حالت میں ہونے کے باوجود ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جس میں ان کی لڑائی باقی رہے۔ اس سے وقتی طور پر لفظی تسکین ضرور ہوتی ہے۔ مگر بالآخر اس کی بہت مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے۔ کیوں کہ حقائق کا طوفان ان کے الفاظ کو اسی طرح بہا لے جاتا ہے جس طرح آندھی خس و خاشاک کو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader