Urdu book · تعمیرملت

مقابلہ کی سیاست ترک کرکے

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

مقابلہ کی سیاست ترک کرکے دوسری جنگ عظیم (۱۹۳۹-۴۵ء) میں جاپان اور برطانیہ ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اس جنگ میں جاپان نے بدترین شکست کھائی۔ مگر اس کے صرف ۲۰ سال بعد یورپ کے بازار جاپانی مصنوعات سے بھرے ہوئے تھے۔ جاپان نے ۱۹۷۳ء میں برطانیہ اور دوسرے پانچ یورپی ملکوں میں ۲ بلین ڈالر کا سامان فروخت کیا۔ یورپ میں چھوٹے الیکٹرانک سامان کی ۷۵ فی صد مارکیٹ پر جاپان نے قبضہ کر لیا ہے۔ ۱۹۷۲ء میں یورپ میں فروخت ہونے والی جاپانی کاروں کی تعداد ۳۴۸۰۲۵ تھی۔ جاپان کو کیسے یہ موقع ملا کہ وہ اپنے حریف کی اقتصادیات پر اس طرح چھا جائے، انگلستان میں مقیم ایک جاپانی تاجر سے جب یہ سوال کیا گیا تو اس نے جواب دیا: I SURRENDERED MY SWORD TO A BRITISH OFFICER AT THE END OF WORLD WAR II Time (New York) August 6, 1973 دوسری جنگ عظیم کے بعد میں نے اپنی تلوار ایک برطانی افسر کے حوالے کر دی تھی۔ مقابلہ کی سیاست میں جاپان کو شکست ہو گئی۔ جاپان نے مقابلہ کو ترک کرکے تعمیری شعبوں میں اپنے کو مستحکم کرنا شروع کر دیا۔ جدوجہد کے میدان کی تبدیلی کارگر ثابت ہو گئی۔ جاپان نے ”ترک سیاست“ سے وہ مقصد زیادہ بہتر طور پر حاصل کر لیا جس کو ”سیاست“ کے ذریعہ حاصل کرنے میں وہ ناکام ہو گیا تھا۔ عدم تشدد کا ہتھیار تشدد سے زیادہ سخت ثابت ہوا ۔ تشدد کو تشدد کے ذریعہ ختم کرنے کا ان کے پاس کافی وجہ جواز تھا۔ مگر وہ نہیں سے زیادہ سخت ثابت ہوا جانتے تھے کہ عدم تشدد کے اصول پر اٹھنے والے طوفان کا مقابلہ کس طرح کریں۔ جب یہ صورت حال سامنے ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی آئی تو ایک پرانے انگریز کلکٹر نے سیکرٹریٹ کو تار دیا: تحریک ۱۹۵۰ء میں شروع ہوئی۔ ابتدائی ۵۰ سال تک یہ تحریک تشدد کے طریقہ پر چلتی رہی۔ ۱۹۱۹ء میں مہاتما گاندھی ہندوستان کی سیاست میں داخل ہوئے تو انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اہنسا کی بنیاد پر آزادی کی تحریک چلائیں گے۔ انگریز حکمران کے لئے گاندھی جی کا عدم تشدد کا ہتھیار پچھلے ”مجاہدین آزادی“ کے تشدد کے ہتھیار برائے مہربانی بذریعہ تار ہدایات بھیجیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے اکثر لوگ سیاست کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ حریف سے لامتناہی لڑائی جاری رکھی جائے۔ مگر اصل سیاست یہ ہے کہ خاموش تدبیر کے ذریعہ حریف کو اسطرح بے ہتھیار کر دیا جائے کہ وہ لڑنے کے قابل نہ رہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page