کبھی سیاست کو ترک کرنے ہی کا نام سیاست ہوتا ہے
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
Kamikaze: Suicide Pilots بھی بے اثر تھی۔ یہ تھا ایٹم بم۔ ۶ اگست ۱۹۴۵ کو امریکی تسلیم کر لیا اور اس کے تحت غیر سیاسی میدانوں میں اپنی ہوائیہ نے دو ایٹم بم جاپان کی زمین پر گرائے جس نے ترقی و استحکام کی تدبیریں شروع کر دیں۔ اب ان کا ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے عظیم صنعتی شہروں کو چند خصوصی نشانہ تھا سائنسی تعلیم اور جدید صنعت ۔ منٹ میں خاک کا ڈھیر بنا دیا۔ اب جاپان کے لئے اس " جنگ کو ختم کر کے جنگ جاری رکھنے کی تدبیر کامیاب کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ امریکہ کے سامنے ہتھیار رہی۔ ۱۹۴۵ میں کئے گئے اس خاموش فیصلہ کا نتیجہ ڈال دے۔ تاہم جاپان کے لئے اب بھی راستے بند نہیں ۱۹۶۰ میں برآمد ہوا ۔ ۲۵ سال تک " سیاست " ہوئے ۔ اب اس نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان ایک ناقابل تسخیر سیاسی " جنگ کو جاری رکھنے کے لئے جنگ کے خاتمہ کا اعلان طاقت بن گیا۔ سائنسی تعلیم ، ٹیکنالوجی ، صنعت اور قومی کر دیا۔ جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے ریڈیو پر قوم کو کردار کی تعمیر میں جاپان نے جو غیر معمولی کامیابیاں حاصل خطاب کرتے ہوئے کہا : کی تھیں، اس نے اپنے بالواسطہ اثرات پیدا کرنے شروع کر " ہم ایک ناقابل برداشت صورت حال سے دئے۔ جہاں تک کہ امریکہ کے لئے اس کو نظر انداز کرنا نا ممکن دوچار ہیں۔ مگر ہمیں اس ناقابل برداشت کو برداشت ہو گیا ۔ امریکہ نے جزائر جاپان کا اقتدار جاپانی باشندوں کرنا ہے تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں ۔ “ کے حوالے کر دیا۔ اس کی فوجیں اس کی فوجیں اودکی نادا میں اپنے عظیم جاپان نے امریکہ کے سیاسی اور فوجی اقتدار کو فوجی اڈہ کو خالی کر کے اپنے وطن واپس چلی گئیں ۔ وہ ہار کو ماننا جانتا تھا امریکہ کے ایک شخص نے ۱۸۳۱ میں تجارت کی۔ اس میں وہ ناکام ہو گیا۔ ۱۸۳۲ میں اس نے الیکشن میں شکست کھائی۔ ۱۸۳۳ میں اس نے دوبارہ تجارت کی مگر اس بار بھی ناکام رہا۔ ۱۸۳۴ میں اس کو امید تھی کہ اس کی پارٹی اس کو کانگریس کی ممبری کے لئے نامزد کرے گی۔ مگر اس کی امید پوری نہ ہوسکی۔ ۱۸۳۵ میں وہ سینٹ کے لئے کھڑا ہوا مگر ہار گیا۔ ۱۸۵۸ میں دوبارہ اس کو سینٹ کے الیکشن میں شکست ہوئی۔ یہ بار بار ناکام ہونے والا شخص ابراہام لنکن (۱۸۶۵ - ۱۸۰۹) تھا جو بالآخر ۱۸۶۰ میں امریکہ کا صدر چنا گیا اور آج وہ امریکہ کا معمار سمجھا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر نارمن ونست پین نے لیکن کی کامیابی کا راز یہ بتایا ہے : HE KNEW HOW TO ACCEPT DEFEAT وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader