بچوں کا گھروندا جتنی دیر میں بنتا ہے اس سے بھی کم مدت میں زمیں بوس ہو جاتا ہے
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
بچوں کا گھروندا جتنی دیر میں بنتا ہے اس سے بھی کم مدت میں زمیں بوس ہو جاتا ہے ایک طالب علم کے سرپرست کالج کے پرنسپل سے ملے۔ "آپ لوگوں نے جو تعلیمی نصاب بنایا ہے وہ بڑا طویل ہے۔ طالب علم کی عمر کا بڑا حصہ صرف پڑھنے میں گزر جاتا ہے" انھوں نے کہا۔ "اس کا حل تو بہت آسان ہے" پرنسپل نے جواب دیا۔ "آپ مختصر نصاب بھی بنا سکتے ہیں۔ اصل میں مدت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ طالب علم کے اندر کس درجہ کی لیاقت دیکھنا چاہتے ہیں۔ قدرت کو شاہ بلوط (OAK) کا درخت تیار کرنے میں سو برس لگ جاتے ہیں مگر جب وہ لکڑی اگانا چاہتی ہے تو اس کے لیے صرف چند مہینے درکار ہوتے ہیں۔ اگر آپ معمولی قسم کا علمی معیار چاہتے ہوں تو چند سال کی تعلیم بھی کافی ہو سکتی ہے مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے کے لیے تو بہر حال زیادہ وقت دینا پڑے گا۔" یہی حال قومی تعمیر کا بھی ہے۔ اگر آپ ٹھوس اور دیر پا تعمیر چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو صبر آزما انتظار کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا اور لمبے عرصہ تک مسلسل محنت کرنی پڑے گی۔ لیکن اگر آپ بچوں کا گھروندا بنانا چاہتے ہوں تو پھر صبح شام میں ایسا گھروندا بن کر کھڑا ہو سکتا ہے۔ البتہ ایسی حالت میں آپ کو اس حادثہ کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ جتنی دیر میں آپ کا گھروندا بن کر کھڑا ہوا ہے اس سے بھی کم مدت میں وہ دوبارہ زمیں بوس ہو جائے۔ ہوائیں چلتی ہیں تو گرد و غبار اٹھ کر فضا میں اڑنے لگتے ہیں مگر گرد و غبار کی پرواز کیلیے آخری طور پر جو انجام مقدر ہے، وہ یہ کہ دوبارہ وہ زمین پر گریں اور قدموں کے نیچے پامال ہونے کے لیے باقی رہ جائیں۔ مگر یہی ہوائیں پانی کے قطروں کو بھی پرواز پر آمادہ کرتی ہیں۔ مگر یہاں معاملہ بالکل مختلف ہوتا ہے قطرے فضا میں جا کر بادل بنتے ہیں، پھر وہ بارش کی شکل میں زمین پر برستے ہیں۔ اس کے بعد نالوں اور ندیوں سے ہوتے ہوئے سمندر میں پہنچتے ہیں اور بالآخر اس عظیم آبی چادر کا حصہ بن جاتے ہیں جو دائمی طور پر پورے کرہ ارض کو لپیٹے ہوئے ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ہماری سرگرمیوں کا بھی ہے۔ سطحی اور غیر دانشمندانہ سرگرمیاں انسانوں کو صرف گڑھے میں گرانے کا باعث ہوتی ہیں اور جن سرگرمیوں کی بنیاد گہری بصیرت پر ہوتی ہے وہ آدمی کو ترقی کے آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سو برس کے درمیان ہم نے اس ملک میں قومی تعمیر کے نام سے زبردست ہنگامہ آرائی کی ہے مگر یہ کوششیں اس انجام پر ختم ہوئی ہیں کہ آج ہم صرف گردِ راہ بن کر انسانی قافلوں کے قدموں کے نیچے پامال ہونے کے لئے پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ہم کو جدوجہد کا جو طویل موقع ملا اور اسمیں جو سنہری امکانات ہمارے لیے چھپے ہوئے تھے اگر ہم نے دانشمندی کے ساتھ انھیں استعمال کیا ہوتا تو آج ہم زمین پر چھائے ہوئے ہوتے۔ فریاد و ماتم کے بجائے ہم فیصلہ کرنے والے کی پوزیشن میں ہوتے۔ ہمارے لیے آسمانی پرواز بھی مقدر تھی، مگر ہماری بے بصیرتی کی وجہ سے صرف زمین کی پامالی کا انجام ہمارے حصہ میں آیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader