Urdu book · تعمیرملت

کبھی سست رفتاری زیادہ عظیم ہوتی ہے

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

کبھی سست رفتاری زیادہ عظیم ہوتی ہے تارکول کی چکنی سڑک پر نئی کار تیزی سے پھسل رہی تھی۔ دوسری طرف سڑک کے کنارے ایک کسان ٹریکٹر کی پیٹھ پر پینچو لے کھار ہاتھا۔ وہ ٹیلوں اور کھائیوں کو ہموار کر رہا تھا تاکہ اس کو فصل اگانے کے قابل بنائے۔ کار کے لئے کوئی ٹھہراؤ نہیں تھا جبکہ ٹریکٹر کو جگہ جگہ ٹھو کر لگ رہی تھی۔ اس کو بار بار رکنا پڑتا تھا۔ کار کے مقابلہ میں ٹریکٹر کی یہ حالت کسی بھی درجہ میں اس کی اہمیت کو نہیں گھٹاتی۔ کار بنے بنائے راستہ پر دوڑ رہی ہے، جب کہ ٹریکٹر خود اپنا راستہ بنا رہا ہے ۔ ایک معنی میں سفر کر رہا ہے، دوسرا مستقبل کی طرف مارچ کر رہا ہے۔ ایک تاریخ کے اندر گم ہے، دوسرا اپنی جدوجہد سے خود ایک تاریخ بنا رہا ہے۔ ٹریکٹر کی سست رفتاری میں جو عظمتیں چھپی ہوئی ہیں، اس کے مقابلہ میں کار کی تیز رفتاری کی کوئی حقیقت نہیں۔ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک خود اپنے لئے مفید ہوتا ہے شیخ سعدی شیرازی (۶۹۱۔ ۵۸۹ ھ) کی کتاب بوستاں کے شروع میں ایک حکایت درج ہے۔ اس کا عنوان ہے : ” پند دادن کسریٰ ہرمز را۔ اس حکایت کے مطابق ایران کا بادشاہ نوشیرواں جب مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس نے اپنے جانشین ہرمز کو بہت سی نصیحتیں کیں۔ ان میں سے ایک نصیحت، سعدی کے الفاظ میں، یہ تھی : مراعات ده مقاں کن از بهر خویش که مزدور خوش دل کند کار پیش یعنی چودھریوں اور سرداروں کے ساتھ رعایت کرو، اس سے خود تم کو فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ مزدور جب خوش ہو تو وہ کام زیادہ کرتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page