Urdu book · تعمیرملت

الٹی سمت میں

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

الٹی سمت میں ایک لطیفہ ہے کہ دہلی میں ایک مسافر کناٹ پلیس کی سڑک پر چل رہا تھا۔ اس کو پارلیمنٹ ہاؤس جانا تھا۔ مگر اس کا رخ الٹی طرف تھا۔ اس نے راستہ میں ایک شخص سے پوچھا: ”پارلیمنٹ ہاؤس یہاں سے کتنی دور ہوگا “ جواب دینے والے نے کہا ”تقریباً ۲۵ ہزار میل “ مسافر یہ سن کر گھبرا گیا۔ ”جناب میں آپ سے راستہ پوچھ رہا ہوں اور آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں “ اس نے کہا: معاف کیجیے گا۔ میں نے مذاق نہیں کیا۔ اصل میں آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے الٹی طرف چل رہے ہیں۔ اس لئے اگر آپ یوں ہی چلتے رہے تو زمین کا پورا چکر کرنے کے بعد ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے جس کی گولائی ۲۵ ہزار میل ہے“ یہ بات بھی اس وقت ہے جب کہ آپ عرض البلد کے ٹھیک اس خط پر چل رہے ہوں جس پر پارلیمنٹ ہاؤس واقع ہے۔ اگر آپ کچھ دائیں بائیں بائیں ہوگئے تو زمین کا بار بار چکر کرنے کے بعد بھی آپ اپنی منزل کو پانے سے محروم رہیں گے “ پارلیمنٹ ہاؤس کا کوئی مسافر اس قسم کی غلطی نہیں کرے گا۔ کیونکہ لوگ اپنے دنیوی معاملات میں اتنے نادان نہیں ہوتے کہ اپنی غلطی واضح ہونے کے بعد بھی بدستور الٹی راہ پر چلتے رہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ دن کے شدید تر احساس ان کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ وہ بدستور غلط راستہ پر چلتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ تباہی کے گڑھے میں جاگرتے ہیں۔ احیار ملت کا سفر بھی موجودہ زمانہ میں کچھ اسی نوعیت کا ہو گیا ہے۔ لوگ الٹی سمت میں بھاگے جا رہے ہیں وہ بھول گئے ہیں کہ الٹی سمت میں سفر آدمی کو منزل سے اور دور کر دیتا ہے نہ کہ اس سے قریب۔ مسائل کا حل خاموش منصوبہ میں نہ کہ پُر رونق ہنگاموں میں اسرائیل کے وزیر اعظم مسٹر بین سے پوچھا گیا کیا اسرائیل اس کے لئے تیار ہے کہ مقبوضہ مغربی اردن اور فلسطینیوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے گفتگو کرے “، انھوں نے جواب دیا: WE WILL FIND A SOLUTION TO THE PALESTINIAN PROBLEM, BUT NOT IN FRONT OF THE TELEVISION CAMERAS ہم فلسطینی مسئلہ کا حل پالیں گے۔ مگر ٹیلی وژن کیمروں کے سامنے نہیں۔ (ٹائمّس آف انڈیا ۱۳ دسمبر، ۱۹۷۰) قوموں کے مسائل کا حل خاموش منصوبہ بندی میں ہوتا معاملہمیں بیشتر لوگ اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ واضح کرنے والے ان کی غلطیاں واضح کرتے ہیں ۔ ان کا دل بھی گواہی دیتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں ۔ مگر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اس کو عزت کا سوال بنا لیتے ہیں ۔ " اگر میں نے اس کے کہنے سے اپنی غلطی مان لی تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا " یہ ہے ۔ مگر اکثر قائدین اس کو پر رونق ہنگاموں میں تلاش کرتے ہیں ۔ شاید اس لیے کہ اس طرح دو فائدوں میں سے کم از کم ایک فائدہ یقینی طور پر حاصل ہو جاتا ہے ۔ اس کے ذریعہ قائد کی اپنی شخصیت بہر حال نمایاں ہو جاتی ہے ۔ خواہ قوم کا مسئلہ حل ہو یا نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page