یہ کام ہے بالیڈری
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کام ہے بالیڈری ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی (۱۹۱۳-۱۹۷۴) ابتدا میں آل انڈیا امن کونسل کے ممبر تھے۔ اس کے بعد اس سے علیحدہ ہوگئے اور اولاً آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور اس کے بعد مسلم مجلس کے ذریعہ کام کرتے رہے۔ امن کونسل سے اپنی علیحدگی کے بارے میں ایک شخص کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا : ’’ جب جبل پور میں بدامنی (۱۹۶۳) ہوئی تو میں نے کونسل سے کہا کہ چلو جبل پور چل کر کچھ کام کریں۔ مگر ان لوگوں نے میری بات نہ مانی۔ وہ بین الاقوامی امن کی بات تو کرتے تھے۔ مگر انھیں گھر کی بدامنی رفع کرنے کے کام سے دل چسپی نہ تھی۔ مجھے یہ بات عجیب سی لگی اور محسوس ہوا کہ ایسی تنظیم سے میرا تعلق رکھنا بے کارسی بات ہے۔ اس لئے میں نے استعفا دے دیا۔‘‘ (الحسنات اگست ۱۹۷۷) ڈاکٹر صاحب مرحوم نے جو بات امن کونسل کے بارے میں کہی، وہ صد فی صد صحیح ہے، صرف اس اضافہ کے ساتھ کہ خود ہمارے رہنماؤں کا حال بھی یہی ہے۔ ہمارا تقریبا ہر رہ نما، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، عالمی کاموں سے خصوصی دل چسپی رکھتا ہے۔ اپنے گھر، اپنے محلہ، اپنے ادارہ اور اپنے قریبی دائرہ میں اس کے لئے جو کام ہیں، اس میں مصروف ہونا وہ اپنے لئے چھوٹی بات سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس آل انڈیا اجتماعات کی صدارت اور بین اقوامِی نمائش گاہوں میں تقریری کمال دکھانا اس کو زیادہ پسند ہے۔ موجودہ زمانہ میں ملت کی بربادی کی، اگر کل نہیں تو کم از کم ایک بڑی وجہ، یقیناً یہی ہے۔ اللہ کے سامنے سرخروئی حاصل کرنے کا جذبہ آدمی کو اپنی ذاتی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مگر افسانوں کے سامنے سرخروئی حاصل کرنے کا شوق ہو تو آدمی کو ’’باہر‘‘ کی فکر زیادہ ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ عام انسانوں کو وہی ’’کام‘‘ زیادہ نظر آتے ہیں جو دور دور کے کئے گئے ہوں۔ سفر ابتدا سے شروع ہوتا ہے نہ کہ درمیان سے سفر کا آغاز جب بھی ہوگا دہی سے ہوگا جہاں آدمی ״We must فی الواقع کھڑا ہوا ہے ۔ ایک شخص دہلی میں start again ہے اور بمبئی پہنچنا چاہتا ہے، ایسے شخص کے لئے ممکن from scratch . . .״ نہیں کہ وہ داد ر سے اپنا سفر شروع کرے۔ اس کو پہلے ہم کو ابتدائی نقطہ سے اپنا سفر شروع کرنا ہے دہلی سے چلنا ہوگا۔ داد ر سے سفر شروع کرنے کا مطلب کوئی شخص اگلی منزل سے اپنے سفر کا آغاز نہیں کرسکتا۔ یہ ہے کہ سفر کبھی شروع ہی نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader