Urdu book · تعمیرملت

بسم الله الرحمن الرحيم

Urdu book, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم الله الرحمن الرحيم راقم الحروف کو ایک بار ایک مسلم ادارہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے اپنا قائم کیا ہوا ”صنعتی مدرسہ“ دکھایا۔ جوان کے وسیع مکان کے ایک حصہ میں واقع تھا۔ اس مدرسہ میں مسلم لڑکیوں کو کپڑے کی کڑھائی کا کام سکھایا جاتا تھا۔ پھر وہ مجھے ایک کمرے میں لے گئے۔ یہاں بڑی تعداد میں میز پوش رکھے ہوئے تھے جو پچھلے کئی سالوں میں لڑکیوں نے بنائے تھے۔ ”دیکھئے کتنے اچھے ہیں یہ میز پوش“، انھوں نے پھول دار کپڑوں کو دکھاتے ہوئے کہا ”یہ ہماری لڑکیوں نے تیار کئے ہیں۔ مگر یہاں مقامی طور پر ان کا کوئی مارکیٹ نہیں۔ آپ ان کو دہلی میں فروخت کرا دیں تو ہم اس کے پیسہ کو مدرسہ میں لگائیں اور اس کو مزید ترقی دیں۔“ یہ سادہ سا واقعہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے مسئلہ کو بہت خوبی کے ساتھ ممثل کر رہا ہے۔ ہم ”سن مائیکا“ کے دور میں ”میز پوش“ کی تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں زمانہ کے جدید حالات کی خبر نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا وجود آج کے زمانہ میں ایک قسم کی قدیم اشیار کی دکان (Old Curiosity Shop) بن کر رہ گیا ہے جس کو وقتی طور پر خواہ کچھ خاص مزاج کے خریدار مل جائیں۔ مگر جدید دنیا میں اس کو کوئی غالب حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ ایک ایسے زمانہ میں جب کہ قو میں لیاقت اور امتیاز کے بل پر اپنی جگہ بنا رہی ہیں ہم مراعات اور رزردیشن کا مطالبہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جب کہ دوسرے لوگ سائنٹفک اسلوب میں اپنے ”دین“ کو پیش کر رہے ہیں ، ہم شاعرانہ اور خطیانہ اسلوب کا کمال دکھارہے ہیں۔ جب کہ لوگ پر امن تدابیر کے ذریعہ اپنی جڑیں مستحکم کر رہے ہیں، ہم توڑ پھوڑ اور ایجی ٹیشن میں مصروف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے معجزاتی نتائج برآمد ہوں گے۔ ملت کی تعمیر کے لئے پچھلے سو برس سے پر شور ہنگامہ مے جاری ہیں۔ مگر ملت کا قافلہ ایک قدم بھی آگے بڑھا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ملت کی تعمیر کا مطلب ہمارے یہاں یہ ہے کہ کسی نہ کسی خارجی گروہ کو اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف تقریر و تحریر کا طوفان برپا کرتے رہ رہنا۔ یہ واقعہ بار بار پیش آرہا ہے کہ حالات ہمارے ایک ”دushman“، کو مٹا دیتے ہیں مگر اس کے بعد دوسرا آتا ہے وہ بھی ہمارے لئے اتناہی ، بلکہ اکثر اوقات اس سے زیادہ برا ثابت ہوتا ہے جتنا کہ پہلا تھا۔ مگر ہمارے جوش میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں آتا جو احتجاجی سیاست پہلے ہم ایک کے خلاف چلا رہے تھے، اب اس کو دوسرے کے خلاف چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر ہمیں زندہ رہنا ہے تو اس قسم کی منفی تدبیروں کو ہمیں چھوڑنا ہو گا۔ اپنی تعمیر آپ کرنی ہوگی۔ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے اپنے آپ کو اپنے چھترے پن کا ذمہ دار قرار دینا ہوگا۔ اپنے وقت اور پیسہ کو جلسوں اور کانفرنسوں میں برباد کرنے کے بجائے اس کو اپنی تعمیر و ترقی پر لگانا ہوگا۔ نعروں اور تقریروں کی سیاست کو چھوڑ کر خاموش عمل کی سیاست اختیار کرنا ہوگا۔ جو امکانات ضائع ہو چکے ان کا ماتم کرنے کے بجائے نئے مواقع کو استعمال کرکے اپنا سفر جاری کرنا ہوگا۔ خوش فہمیوں کی دنیا سے نکل کر حقائق کی دنیا میں اپنا مستقبل بنانا ہوگا۔ اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں جو اسباب کی اس دنیا میں ہمیں زندگی عطا کرنے والی ہو۔ (۱۹ ار دسمبر ۱۹۷۸ء)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page