بسم الله الرحمن الرحيم
Urdu book, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ الفاظ ایک صدی قبل کہے گئے تھے ۱۸۵۷ کے حالات کے ذیل میں مولاناسید حسین احمد مدنی لکھتے ہیں: ”قصبہ تھانہ بھون میں حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے تیسرے خلیفہ مولانا شیخ محمد صاحب رہتے تھے۔ وہ علوم عربیہ کے باقاعدہ فاضل تھے۔ علماء دہلی سے تمام نصاب علم ظاہر پڑھ چکے تھے۔ بدقسمتی سے مولانا شیخ محمد صاحب کی رائے یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تو درکنار موجودہ احوال میں جائز ہی نہیں۔ (چنانچہ تھانہ بھون میں اکابر علما کا ایک اجتماع بلایا گیا جس میں مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمد قاسم نانوتوی وغیرہ شریک ہوئے) اجتماع میں حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت ادب سے مولانا شیخ محمد صاحب سے پوچھا کہ حضرت کیا وجہ ہے کہ آپ ان دشمنانِ دین و وطن پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اسلحہ اور آلات جہاد نہیں ہیں۔ ہم بالکل بے سر و سامان ہیں۔ مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا کہ کیا اتنا بھی سامان نہیں ہے جتنا کہ غزوہ بدر میں تھا۔ اس پر مولانا شیخ محمد صاحب مرحوم نے سکوت فرمایا (نقش حیات، جلد دوم، ص۱۹۵، ۶۱۹۵، صفحہ ۴۰) ڈاکٹر محمد اقبال کے پہلے مجموعہ کلام بانگ درا میں ایک نظم ”نالہ طائرِ بام“ کے عنوان سے درج ہے۔ یہ نظم اقبال نے ۱۹۰۵ اور ۱۹۰۸ کے درمیان کسی وقت ”طلبہ علی گڑھ کالج کے نام“ لکھی تھی۔ اس نظم کا آخری شعر یہ تھا: بادہ ہے نیم رس ابھی شوق ہے نارسا ابھی رہنے دوخم کے سر پہ تم خشتِ کلیسا ابھی مطلب یہ کہ انگریزوں سے سیاسی چھیڑ چھاڑ ابھی نہ کرو۔ کیوں کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد جو ضروری صلاحیت درکار ہے وہ ابھی لوگوں میں پیدا نہیں ہوئی۔ انگریزوں کے ہندوستان میں داخلہ کے بعد جب رہنماؤں کے ایک بڑے طبقہ میں ان کے خلاف سیاسی جہاد کا جذبہ ابھرا تو اسی کے ساتھ اہل فکر کی ایک تعداد ایسی بھی موجود تھی جو اس کے خلاف تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ انگریزوں سے سیاسی جہاد ابھی قبل از وقت اور مضر ہے۔ ہم کو پہلے اپنے آپ کو مستحکم بنانا چاہئے کیوں کہ اپنی موجودہ حالت کے ساتھ ہم زمانہ جدید کے سیلاب کے مقابلہ میں ٹھہرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس سلسلہ میں یہاں دور رہناؤں کے اقتباسات نقل کئے جاتے ہیں۔ ایک اقبال کا۔ دوسرے رشید رضا کا۔ ڈاکٹر اقبال نے رسالہ مخزن راکٹوبرسم ۱۹۱۰ء، مارچ ۱۹۰۵ء میں دو قسطوں میں ایک مضمون شائع کرایا تھا۔ اس مضمون کا خلاصہ خود اقبال کے الفاظ میں حسب ذیل ہے: ”اگر ہمیں اقوامِ عالم کے دفتر میں اپنا نام قائم رکھنا ضروری ہے تو اپنی نسلوں کی بہبودی کو بھی ایک موجود واقعہ تصور کرنا ہوگا۔ ایک زمانہ تھا جب کہ اقوام دنیا کی باہمی معرکہ آرائیوں کا فیصلہ تلوار سے ہوا کرتا تھا۔ مگر آج زندگی کا دارو مدار اس کاٹھ کی تلوار پر ہے جو قلم کے نام سے موسوم کی جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader