یا الہی یہ ماجرا کیا ہے
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
یا الہی یہ ماجرا کیا ہے مولانا ابوالکلام آزاد نے ۱۹۱۴ء میں "دارالارشاد" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ ادارہ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے انھوں نے لکھا: "ہمارے کاموں کی بڑی قسمیں صرف دو ہی ہیں ۔ مسلمانوں کی داخلی اصلاح واحیائے علم وعمل ، اور غیر قوموں میں اسلام کی تبلیغ ۔ یہ دونوں کام بغیر کسی ایسی جماعت کی موجودگی کے انجام نہیں پا سکتے ۔ جس قدر تحریکیں ، انجمنیں ، کانفرنسیں اور متفرق کوششیں بغیر اس کے ہوں گی ، وہ اسی طرح ضائع ہو جائیں گی جس طرح اب تک ضائع ہو چکی ہیں " ۔ البلاغ ۱۲ نومبر ۱۹۱۵ چالیس سال پہلے مولانا آزاد کا یہ تجزیہ کس قدر صحیح تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ دنوں بعد وہ ان دونوں کاموں کو چھوڑ کر "متفرق کوششوں"، بالفاظ دیگر سیاست کی لائن پر چل پڑے ۔ اگرچہ وہ آخر وقت تک یہی اعلان کرتے رہے کہ " میں نے ۶۷ سال کی عمر میں اپنے لئے جو راستہ مقرر کیا تھا، اسی پر میں آج بھی قائم ہوں " یہی موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام شخصیتوں کا حال ہوا ہے۔ وہ آغاز میں ایک خالص دینی مقصد لے کر اٹھیں ۔ مگر دھیرے دھیرے ان کی گاڑی سیاست کی پٹری پر اترگئی ۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر ایک آخر وقت تک یہی اعلان کرتا رہا کہ وہ اب بھی اسی مقصد پر قائم ہے جو اس نے شروع میں اپنے سامنے رکھا تھا۔ وقت گزرنے کے بعد ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو مہاتما گاندھی کو گولی سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس وقت سے ہر سال یہ دن یوم شہیداں کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ۳۰ جنوری ۱۹۶۸ کو اس موقع پر جو تقریبات ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھا کہ برطانوی نوبل انعام یافتہ لارڈ فلپ نوئیل بیکر کو لکچر کے لئے مدعو کیا گیا۔ اس اجتماع کی صدارت مسٹر اٹل بہاری باجپئی نے انجام دی۔ مسٹر باجپئی، جو اس وقت ہندوستان کے وزیر خارجہ ہیں، ۱۹۴۸ میں ڈاکٹر شیام پرشاد مکرجی (ہندو مہا سبھا) کے پرسنل سکریٹری تھے۔ مسٹر باجپئی کی صدارتی تقریر کی جو رپورٹ اخبارات میں آئی ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے۔ وزیر خارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپئی نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ اُس وقت ان کا خیال تھا کہ مہاتما گاندھی نے ملک کی تقسیم کے وقت فرقہ وارانہ سوال پر جو موقف اختیار کیا، وہ قومی معیار سے گرا ہوا تھا۔ اگر اب وہ سمجھتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کا موقف ہی درست تھا) حقیقت پسند رہنماؤں کے ساتھ المیہ یہ پیش آتا ہے کہ ان کے وقت کے پرجوش لوگ ان کے موقف کو پست ہمتی کا موقف سمجھتے ہیں ۔ حالاں کہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ وہ ہی زیادہ صحیح اور قابلِ عمل تھا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader