ڈیگال ازم : اپنی مقبولیت کی قیمت پر قوم کے مستقبل کی تعمیر
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی رہنمائی کے کام کے لیے صرف انھیں لوگوں کو اٹھنا چاہیے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکتے ہوں۔ جن کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو، ان کا قومی رہنما بن کر اٹھنا، قومی جرم ہے نہ کہ قومی خدمت چودھری خلیق الزماں (۱۹۴۳- ۱۸۸۸) پاکستان تحریک کے بانیوں میں سے تھے، انھیں اپنے اوپر اتنا اعتماد تھا کہ انھوں نے کہا: "ہندو سے زیادہ سیاست میرا کو جوان جانتا ہے۔" انھوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں دکھایا ہے کہ پاکستان کے اصل بانی وہی تھے۔ یہ انھیں کا تخیل تھا اور اس وقت تھا جب کہ مسٹر جناح بھی اس کے خلاف تھے۔ مگر آخر عمر میں چودھری صاحب کو یہ احساس ہو گیا کہ انھوں نے تقسیم ملک کی جو تحریک چلائی وہ غلط تھی، ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور (۲۱ اپریل ۱۹۷۲ء) میں ان کا ایک انٹرویو چھپا تھا، اس سے پھر روزنامہ جنگ میں نقل ہوا۔ اس انٹرویو کا ایک حصہ یہ تھا: "ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری خلیق الزماں نے روزنامہ جنگ" کے نمائندہ کو ایک ملاقات میں انٹرویو دیا اور برصغیر کی تقسیم کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے یہ تقسیم کرا کر ہندوستان کے مسلمانوں کو کمزور کیا اور جن عظیم مقاصد کے لیے پاکستان قائم کیا تھا وہ بھی حاصل نہ ہو سکے۔ اب ہم ایک کوزہ میں بند ہو گئے ہیں۔ ہندوستان میں اب بھی ۵-۶ کروڑ مسلمان ہیں۔ جن کی ہم کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔ اس صورت میں کون کہہ سکتا ہے کہ تقسیم ہند کا اگر ہم نے کوئی فائدہ حاصل کیا ۔" روزنامہ جنگ ، راولپنڈی ۔۱۳ اپریل ۱۹۷۲ء، صفحہ ۳ اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے تمام قائدین ، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی ، چودھری خلیق الزماں ہی کی مثال ثابت ہو کے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ بعض لوگ مرتے ہوئے چودھری صاحب کی طرح اپنا اقرار نامہ لکھ کر قوم کو دے گئے ۔ اور بیشتر کا حال یہ رہا کہ آخر وقت تک وہ یہی کہتے رہے یا کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے جو راہ اختیار کی وہی صحیح ترین راہ تھی ۔ حالات کے بگاڑ میں ان کا اپنا کوئی حصہ نہیں۔ زندگی کا راز جو کم پر راضی ہو جائے وہی زیادہ پاتا ہے ۔ جو زیادہ کے لئے دوڑے وہ کم سے بھی محروم رہتا ہے اور زیادہ سے بھی ۔ ل م

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader