Urdu book · تعمیرملت

طاقت کا خزانہ آپکے اندر ہے

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

طاقت کا خزانہ آپکے اندر ہے نپولین کا نام فوجی تاریخ میں عظمت کا نشان ہے۔ مگر وہ ایک پست قد آدمی تھا اگر چہ فربہ اندام تھا۔ ایک دن وہ پریڈ گراؤنڈ میں معمولی لباس میں کھڑا تھا اتنے میں اس کا ایک فوجی پیچھے سے آیا اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ کوئی معمولی سپاہی ہے، نپولین کے اوپر سے ہائی جمپ کر گیا۔ اس کے بعد وہ فخریہ انداز میں پلٹا اور کھڑے والے شخص کے سامنے سے اس کے چہرہ پر نظر ڈالی تو وہ نپولین تھا جو سنجیدگی کے ساتھ اپنے فوجی کی طرف دیکھ رہا تھا فوجی نے جب اسطرح اچانک اپنے عظیم کمانڈر نپولین کو دیکھا تو وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور فوراً مر گیا۔ معلوم ہوا کہ طاقت کا اصل سر چشمہ خود آدمی کا اپنا احساس ہے۔ وہی نپولین ہے اور وہی فوجی مگر ایک بار وہ نپولین کے سر سے فخریہ انداز میں پھاند جاتا ہے اور دوسری بار اس کو دیکھتے ہی اتنا بد حواس ہو تو ہے کہ فوراً مر جاتا ہے۔ یہ دونوں احساس کے کرشمے ہیں اگر آپ کا دل بے خوف ہے تو آپ شیر سے لڑ سکتے ہیں اور دریاؤں کو پھلانگ سکتے ہیں۔ لیکن اگر دل میں شبہ اور دہشت بن جاتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کے رابرٹ بروس (ROBERT BRUCE) نے انگلینڈ کے بادشاہ کنگ ایڈورڈ اول کے خلاف بغاوت کردی تھی جو کہ اسکاٹ لینڈ کے اوپر اقتدار اعلیٰ کا دعویدار تھا اس کو ۱۳۰۶ء میں "کنگ آف اسکاٹ لینڈ" کا تاج پہنایا گیا ۔ اس مقابلہ میں رابرٹ بروس کو بری طرح شکست ہوئی اور اس کو جنگلوں اور بیابانوں میں پناہ لینا پڑی ۔ مگر ۱۳۱۴ء میں اس نے دوبارہ انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ دوم سے بنک برن میں جنگ کی اور اس کو شکست دی۔ اور اسکاٹ لینڈ کو انگریزوں سے آزاد کرا لیا۔ اس کے بعد "رابرٹ اول" کے نام سے اس نے ۱۳۲۹ء تک اسکاٹ لینڈ پر حکومت کی ۔ رابرٹ بروس کو شکست کے بعد فتح کس طرح حاصل ہوئی اس کے سلسلے میں ایک دلچسپ قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ایک جنگل کے اندر کسی غار میں پڑا ہوا تھا۔ مجھے اب انگلینڈ کے بادشاہ سے مقابلہ کا خیال چھوڑ دینا چاہیے" اس نے سوچا۔ اس کو اپنی کامیابی کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔ کئی بار کے مقابلہ کے بعد بالآخر وہ مایوس ہو چکا تھا۔ پڑا ہو تو لیڈروں کا عول بھی آپ کو بُھلائے گا اور معمولی نہریں بھی آپ کو ڈُبانے کے لیے کافی ہوں گی ۔ اوپر ہم نے نیپولین کے فوجی کی جو مثال پیش کی ہے، وہ اس صورت حال سے متعلق تھی کہ ایک طاقتور شخص کس طرح دل کی گھبراہٹ کی وجہ سے اپنی موجودہ طاقت بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اب ایک ایسی مثال لیجیے جبکہ ایک کمزور اور شکست خوردہ آدمی محض دل کی کیفیت بدل جانے کی وجہ سے دوبارہ فتح و کامیابی کا مالک اتنے میں غار کے اندر ایک ایسا واقعہ ہوا۔ ایک مکڑی اپنے جالے کے باریک تار سے چھوٹ کر زمین پر گر پڑی۔ رابرٹ بروس کی نظریں اس کے اوپر جم گئیں۔ اس نے دیکھا کہ مکڑی نے اپنا ایک منٹ ضائع نہیں کیا اور لٹکتے ہوئے تار کے ذریعے دوبارہ اوپر چڑھنے کی جدوجہد شروع کر دی ۔ مگر چھت کے قریب پہنچتے ہی وہ دوبارہ پھسل کر گر پڑی۔ اب وہ پھر پہلے کی طرح زمین پر پڑی ہوئی تھی اس طرح وہ بار بار چڑھتی اور بار بار گرتی رہی۔ مگر وہ ۴م

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page