اس کا اخبار وہاں بھی پہونچ رہا تھا جہاں وہ خود نہیں پہو نچ سکتا تھا
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
کر سکیں اور آپس میں جو اختلاف ہے۔
طرابلس کے متحف (میوزیم) میں ایک بکری رکھی ہوئی ہے جس کی گردن کے اوپر دو سر ہیں۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا، اگر ایک شخص اس کو دیکھ کر آئے اور آپ اس سے پوچھیں کہ سب سے عجیب چیز متحف میں تم نے کیا دیکھی۔ تو شاید وہ جواب دے گا کہ ”دوسروں والی بکری “ مگر میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں نے سب سے عجیب چیز جو دنیا میں دیکھی وہ دوسرے والے انسان ہیں۔ طرابلس کے متحف میں تو صرف ایک ایسی بکری ہے جس کے دو سر ہیں۔ مگر میں نے اپنی ساری عمر میں جتنے انسان دیکھے سب دو سر رکھنے والے انسان تھے۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اس کو مثال سے سمجھے۔ آپ کا ایک لڑکا ہے۔ آپ اس کو کامیاب ڈاکٹر دیکھنا چاہتے ہیں آپ کیا کریں گے۔ آپ اس کو اسکول میں داخل کریں گے، بیالوجی کے ساتھ ہائی اسکول کرائیں گے۔ پھر بی، ایس، سی کرائیں گے۔ پھر اس کو ایم بی بی ایس کے کورس میں داخل کریں گے۔ پھر آپ کی کوشش یہ ہوگی کہ اس کو ایف آرسی ایس کرنے کے لئے لندن بھیجیں۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے دنیا میں اپنی جگہ بنائے ۔ آپ میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرے گا کہ وہ اپنے لڑکے کو یوں ہی چھوڑ دے کہ وہ کھیلتا کودتا رہے۔ اس کے بعد جب وہ ۲۵ برس کا ہو جائے تو اس کا باپ اس کو ڈاکٹر بنانے کے حق میں پر جوش تقریریں شروع کردے، نہ حکومت کو تار بھیجے کہ میرے لڑکے کو اسپتال میں سرجن مقرر کرو۔ یا یہ کہ اس کو ” پس ماندہ “ قرار دے کر ڈگری کے بغیر ڈاکٹر تسلیم کر لو۔ آپ میں سے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ ڈاکٹر بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا لڑکا تعلیمی اور تربیتی کورس کو پورا کرے۔ محض مطالبہ کرنے سے کوئی شخص کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ یہ دنیا استحقاق کی دنیا ہے، مطالبات کی دنیا نہیں۔ مگر یہی بات جو ہر آدمی اپنے ذاتی معاملہ میں جانتا ہے، قومی معاملہ میں وہ اس سے بے خبر ہے، جہاں کسی شخص کو قوم کا درد اٹھا اور وہ اصلاح کے میدان میں کھڑا ہوا، فوراً ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک اور سر پیدا ہو گیا ہے جو بالکل دوسرے ڈ ڈھنگ سے سوچتا ہے۔ اب وہ ”تیاری“ کے بجائے ”مطالبہ“ کو کامیابی کا راز سمجھنے لگتا ہے۔ مفروضہ حریف کے خلاف پر جوش تقریریں کرنا، تار اور میمورنڈم بھیجنا، مطالبات کے ریزولیوشن پاس کرنا، بین الاقوامی اداروں میں اپنا کیس لے جانے کی اسکیمیں بنانا، یہی اس کی تمام سرگرمیوں کا خلاصہ ہوتا ہے۔ وہی شخص جو اپنی اولاد کے بارے میں جانتا تھا کہ کامیابی صرف اس طرح ملتی ہے کہ پہلے اس کے لئے صلاحیت اور استعداد پیدا کی جائے، وہی شخص قوم کی اولاد کے بارے میں اپنی ساری سرگرمیوں کا نقشہ اس طرح بناتا ہے گویا تقریر اور مطالبات ساری کامیابیوں کا راز ہیں۔ یہ لا حاصل جد و جہد بالآخر جب ناکام ہو جاتی ہے تو وہ ہمت نہیں ہارتی۔ اب وہ اپنی مطالباتی مہم کو جاری رکھنے کے لئے نیا لفظ ڈھونڈ لیتا ہے: ”ہم کو پس ماندہ قرار دے کر استحقاق کے بغیر ہی تمام مناصب پر بٹھا دو۔“ ایسے لوگوں کو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ وہ سر رکھنے والے لوگ ہیں۔ اس مزاج کے معاملہ میں کسی مسلم قوم کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ ہر علاقہ کے مسلمان اسی دوہری ذہنیت کا شکار ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا ”دوسرا سر“ ایک کے خلاف کام کر رہا ہے، کسی کا دوسرے کے خلاف۔ ایسے لوگ ممکن ہے دفعتاً لیڈری حاصل کر لیں مگر ان کے اس عمل کی کوئی قیمت نہ تاریخ کے نزدیک ہے اور نہ خدا کے نزدیک۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader