Urdu book · تعمیرملت

اس کا اخبار وہاں بھی پہونچ رہا تھا جہاں وہ خود نہیں پہو نچ سکتا تھا

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا اخبار وہاں بھی پہونچ رہا تھا جہاں وہ خود نہیں پہو نچ سکتا تھا روسی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے مگر اس کے اندر بہت بڑی نصیحت چھپی ہوئی ہے۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب روس میں اکتوبر ۱۹۱۷ء کا انقلاب نہیں آیا تھا روس میں بالشویکوں (کمیونسٹوں کا قدیم نام) کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لئے شہنشاہ روس (زار) نے بالشویک پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا تھا۔ اور تمام بڑے بڑے لیڈروں کے نام گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے تھے۔ کچھ لیڈر گرفتار ہوئے، کچھ بچ کر جنگلوں اور غاروں میں روپوش ہو گئے۔ اٹھیں روپوش ہونیوالوں میں بالشویک پارٹی کا عظیم لیڈر لینین بھی تھا۔ لینین نے جنگلوں اور غاروں کے ایک دور افتادہ علاقہ کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں روپوش ہو کر اخبار نکالنا شروع کر دیا۔ یہ اخبار دستی پریس میں چھاپ کر دستی طور پر روس کے شہروں میں خفیہ طور پر پہنچا دیا جاتا تھا۔ ایک روز کا واقعہ ہے، ایک شخص ایک روسی شہر میں پنساری کے یہاں کچھ سامان خریدنے گیا۔ جب وہ سامان خرید کر گھر لایا اور پٹریا کھولی تو اچانک اس کی نظر پٹیا والے کاغذ کے چھپے ہوئے الفاظ پر پڑی۔ یہ ایک اخبار کا پھٹا ہوا صفحہ تھا جس میں آتشیں الفاظ اور گرما گرم عنوان کے ساتھ ایک عبارت چھپی ہوئی تھی۔ ردی کے اس ٹکڑے پر چھپی ہوئی عبارت پڑھ کر اس آدمی کے اندر عجیب کیفیت پیدا ہوئی، وہ بار بار اس کو پڑھتا رہا اور اس سے اپنے دل کو گرماتا رہا یہاں تک کہ اسے خیال ہوا کہ معلوم کرے کہ اس عبارت کا مصنف کون ہے اور یہ کس اخبار کا ٹکڑا ہے جو پنساری کی معرفت اسے ملا ہے۔ وہ تلاش میں لگ گیا۔ جوئنده ياینده بالآخر اسے معلوم ہوا کہ یہ ردی کا ٹکڑا ایلین کے اس اخبار کا پھٹا ہوا صفحہ ہے جو وہ رو پوش ہو کر نکال رہا ہے۔ اب اس کا اشتیاق اور بڑھا اور وہ تلاش کرتا ہوا اس غار میں پہنچ گیا جہاں چھپ کر لینن اخبار نکالا کرتا تھا۔ اس کے بعد سے آخری تک وہ لینن کا ساتھی بنا رہا۔ اس طرح کے کتنے لوگ ہیں جن کو لینن نے صرف اپنے اخبار سے فتح کیا۔ لینن زار کی پولیس سے بچنے کے لیے غار کے اندر روپوش تھا مگر اپنے اخبار کی بدولت وہ ہر شہر میں پہنچا ہوا تھا۔ حتی کہ بازار میں پنساری کی دوکان بھی اس کے حق میں پروپیگنڈے کا مرکز بنی ہوئی تھی اس کا اخبار وہاں بھی پہنچ رہا تھا، جہاں وہ خود نہیں پہنچ سکتا تھا۔ یہ ہے موجودہ زمانے میں پریس کی قوت۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ پچاس برس پہلے باشعور لوگوں نے اس سے جو کام لیا تھا، ابھی تک ہم وہاں بھی نہیں پہنچے ہیں اور آج کی زندہ قو میں پریس سے جو کام لے رہی ہیں اس کی تو عام مسلمانوں کو خبر بھی نہیں حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں دوسری قومیں ہم سے اتنا آگے ہیں کہ ہم ان کے پیچھے بھی نہیں ۔ پیچھے ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم بھی کہیں ہیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم ان کی نسبت سے کہیں نہیں ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page