Urdu book · تعمیرملت

یہ اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھا

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھا بھگوت ایس۔ گڈوانی ہندوستان کے شہری پرواز کے محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک تازہ کتاب میں میسور کے سلطان ٹیپو (۹۹ء، ۱-۱۷۵۱) کے حالات ناول کے پیرایہ میں بیان کئے ہیں۔ اس تاریخی ناول کا نام ہے ”ٹیپو سلطان کی شمشیر۔“ یہ کتاب انھوں نے ہند، برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، ترکی اور ایران کے کتب خانوں اور عجائب گھروں میں اٹھارہ سال تک تحقیق کرنے کے بعد تیار کی ہے۔ مسٹر گڈوانی نے ٹیپو سلطان کو ”درجہ اول کا قوم پرست“ قرار دیا ہے۔ ان کا فیصلہ ہے کہ ”ٹیپو اٹھارہویں صدی کا واحد ہندوستانی حکمران ہے جس نے کسی بھی وقت اپنے ہم وطنوں کے خلاف جنگ میں انگریزوں کا ساتھ نہیں دیا۔“ مسٹر گڈوانی نے لکھا ہے کہ ”۹۲ء کے سرنگاپٹم کے محاصرہ میں ٹیپو نے انگریزوں کے ساتھ صلح کی جو بات چیت شروع کی وہ محض اپنے جنرل میر صادق کی پیدا کردہ غلط فہمی کی بنیاد پر تھی۔ حالانکہ اس وقت برطانوی جنرل کارنوالس اپنی فوجوں کے زیر دست جانی نقصان کی وجہ سے پسپائی کی تیاریوں میں مشغول تھا۔ سلطان ٹیپو کا یہ اقدام وقتی طور پر اس کے جاسوسی نظام کی کمی کا سبب ہو سکتا ہے، تاہم ٹیپو کی شکست یا اٹھارویں صدی کے آخر میں مشرقی اقوام کی مغربی اقوام کے مقابلہ میں پسپائی اس قسم کی کسی جزوی یا اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھی۔ یہ در اصل جدید قوتوں میں مغرب کی سبقت اور مشرق کی پس ماندگی تھی جس نے ایک کو غالب اور دوسرے کو مغلوب کر دیا تاریخ میں کوئی فیصلہ دینا ایک بے حد نازک کام ہے۔ کیوں کہ بہت سے بظاہر یکساں اسباب میں سے کسی ایک سبب کو وہ فیصلہ کن عامل قرار دینا پڑتا ہے جس کے ذریعہ دوسرے اسباب کو سمجھا جا سکے۔ اگر فیصلہ کن سبب کو متعین کرنے میں غلطی ہو جائے تو تاریخ کا مطالعہ محض قصہ کہانی کا مطالعہ بن جاتا ہے بجائے اس کے کہ وہ ہم کو کسی حقیقی سبب تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ اپنی کمزوری کو دوسرے کے اوپر ڈالنے کی کوشش آدمی کو تاریخ کے حقیقی سبق سے محروم کر دیتی ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ کسی "قدیم " تہذیب کو دوبارہ "جدید" نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح آدمی کو جوانی صرف ایک بار ملتی ہے، اسی طرح تہذیب کو بھی صرف ایک بار عروج نصیب ہوتا ہے۔ اس کے بعد تہذیب پر بڑھاپا آجاتا ہے۔ اور جو بوڑھا ہوگیا اس کو دوبارہ جوان نہیں کیا جا سکتا۔ مگر چین کی مثال نے اس مفروضہ کی تردید کردی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار جیمز ریسٹن (JAMES RESTON) نے پیکنگ میں اپنے طویل قیام کے بعد اپنے ذاتی مشاہدہ پر مبنی ایک رپورٹ تیار کی ہے جس کا عنوان ہے NEW LOOK OF AN ANCIENT LAND اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "چین کی قدیم ترین تہذیب کے بارے میں جو بات سب سے زیادہ نمایاں ہے، وہ یہ کہ آج وہ دوبارہ جوان نظر آتی ہے۔ ایک امریکی مشاہدہ کے نزدیک چین کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت اس کا "شباب" ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page