Urdu book · تعمیرملت

کبھی شکست بھی فتح ثابت ہوتی ہے

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

کبھی شکست بھی فتح ثابت ہوتی ہے اسلام کی قدیم تاریخ میں اغیار کی طرف سے اس کو دو بڑے فوجی مقابلے پیش آئے ہیں۔ ایک تاتاریوں سے، دوسرا مسیحیوں سے۔ تاتاریوں سے مقابلہ بارھویں صدی کے آخر میں پیش آیا۔ مسلم قوموں کو اس مقابلہ میں مکمل شکست ہوئی۔ مگر اس شکست کے اندر سے حیرت انگیز طور پر ایک نیا امکان برآمد ہو گیا۔ فتح نے تاتاریوں کے انتقامی جذبہ کو ختم کر دیا۔ اب وہ نفسیاتی طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ مفتوح کے مذہب و عقائد پر پئے آمین رائے قائم کر سکیں۔ انھیں نظر آیا کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور اس میں خود ان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی شکست پر ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ تاتاری حکمران مسلمان ہو گئے اور سارا مسئلہ ایک نئی بہتر شکل میں ختم ہو گیا ۔ فوجی میدان کے فاتح فطرت اور نفسیات کے میدان میں اپنے مفتوحوں سے شکست کھا گئے ۔ مسیحی یورپ اور مسلمانوں کے درمیان مقابلہ اس کے برعکس مثال پیش کرتا ہے۔ مسیحی یورپ سے دوسوسالہ صلیبی لڑائی کے بعد مسلمانوں کو شان دار فتح حاصل ہوئی اور مسیحی اقوام کو بدترین شکست کے بعد واپس لوٹنا پڑا۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ سارے یورپ میں اپنے غالب حریف کے خلاف انتقام کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ بھڑک اٹھی۔ اپنے تمام وسائل کو انھوں نے ایک نئے زندگی کے حقائق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں کہ وہ فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سما سکیں ۔ مقابلہ کی تیاری کے لئے استعمال کرنا شروع کیا ۔ ان کی یہ مخالفانہ کوششیں پانچ صدیوں تک جاری رہیں ، یہاں تک کہ ان کی کامیابی اس انتہا کو پہنچی کہ انھوں نے قوت و طاقت کے نئے میدان دریافت کر لئے ۔ انھوں نے مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں شکست دے کر ساری دنیا پر اپنی سیاست کا جھنڈا گاڑ دیا ۔ انھوں نے قدیم طرز کی ملاحی جہاز رانی کو ترقی دے کر دُخانی جہاز رانی کے مقام پر پہنچایا اور اس کے زور پر تمام سمندروں پر قابض ہوئے ۔ انھوں نے دور مار ہتھیار تیار کرکے مسلم تلواروں کو کند کر دیا ۔ انھوں نے مشینی صنعت ایجاد کرکے مسلم دستکاری کا خاتمہ کر دیا ۔ انھوں نے سائنسی علوم وضع کرکے مسلمانوں کے روایتی علوم کو بے قیمت کر دیا ۔ انھوں نے محکومی کی ایک نئی قسم (اقتصادی اور فنی محکومی) وجود میں لا کر تمام مسلم دنیا کو مجبور کیا کہ سیاسی طور پر آزاد ہونے کے بعد بھی وہ انھیں کی غلام اور محکوم بنی رہے ۔ پچھلی آٹھ سو سالہ تاریخ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ سخت غلطی پر ہیں جو صرف فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے حقائق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں کہ فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سما سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ فتح کبھی شکست ثابت ہوتی ہے اور شکست بھی کسی وقت فتح بن جاتی ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page