Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اس عظیم نعمت کا اعتراف کرسکے۔ یہ اس کے لیے ایک ناقابل تصور تجربہ ہوتا ہے۔ اسی تجربے کا نام شکر ہے۔ یہ تجربہ اتنا زیادہ اعلیٰ ہوتا ہے کہ منعم کے لیے زبان سے شکر کی ادائیگی کے ہر الفاظ اس کو کمتر لگنے لگتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی پوری شخصیت ایک زبان بن جاتی، اور وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے رب کا شکر ادا کرتا۔ اس کا پورا وجود شکر کے احساس میں ڈھل جاتا، اور وہ زبان سے شکر کے الفاظ بولنے والا نہیں، بلکہ سراپا شکر میں جینے والا انسان بن جاتا۔ ایک تجربہ میں نے 1999ء میں مانچسٹر (انگلینڈ) کا سفر کیا۔ اس سفر میں میں نے چند دن ایک نوجوان عرب میزبان العارف احمد کے یہاں قیام کیا تھا۔ وہ وہاں رفیوجی (asylum) کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں رہتے ہوئے ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا۔ یہ واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: جمعرات کی صبح، 17 جون 1999ء کا دن تھا۔ میں مانچسٹر میں میزبان کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔ جب میں بالائی منزل کے ایک کمرے میں بیٹھا ہوا تھا، تو میں نے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک سنی۔ میں نے دروازہ کھولا تو مجھے تقریباً پانچ سال کی عمر کی ایک بچی کھڑی دکھائی دی۔ یہ ہمارے میزبان العارف صاحب کی بیٹی، قانة تھی۔ اس نے انتہائی معصومیت سے پوچھا: تريد حاجة (آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟)۔ اگرچہ یہ ایک معمولی قسم کا سوال تھا، لیکن میں اس معصوم آواز سے اور وہلم (overwhelm) ہوگیا۔ اس قدر اُو وہلم ہوگیا کہ جواب میں میں اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکا۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ (normal event) تھا۔ لیکن میرے ذہن میں یہ ایک عظیم واقعہ (supernatural event) میں کنورٹ ہو گیا۔ چنانچہ اس بچی کی معصوم آواز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page