Urdu book · تعمیرِ شخصیت

ایک تجربہ

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

سن کر مجھے ایسا لگا جیسے خدا نے گویا میرے پاس ایک فرشتہ بھیجا ہے، تا کہ وہ میری ضروریات کو در یافت کرے، اور اسے پورا کرے۔ اسی لمحے ایک حدیث میرے ذہن میں آئی: رب العالمین روزانہ آسمان دنیا پر آتا ہے، اور پکارتا ہے: کیا کوئی ہے جو محتاج ہو، اور مجھ سے مانگے، تو میں اسے عطا کروں؟ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (1145 ” کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟“ ایک چھوٹا سا سوال تھا جو ایک معصوم بچی نے پوچھا تھا۔ لیکن میرے اندرونی وجود میں ایک بہت بڑا انقلاب بر پا کرنے کے لیے یہ سوال کافی تھا۔ وہ انقلاب جس کو آج کی زبان میں برین اسٹارمنگ (brainstorming) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے میں نے محسوس کیا کہ کائنات کی تمام چیزیں میرے مائنڈ کی اسکرین پر موجود ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا روحانی تجربہ تھا، جس کا اظہار انسانی الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ابتدا میں یوں لگتا تھا، جیسے خدا ایک ”نثے فرشتے“ کے ذریعہ کہہ رہا ہے: اے میرے بندے، کیا تم کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟ پھر اس عمل میں گویا پوری کائنات بھی شامل ہوگئی۔ میرے سامنے بظاہر ایک چھوٹی سی لڑ کی تھی، جو مجھ سے پوچھ رہی تھی: کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟ لیکن اپنے وسیعی معنی کے اعتبار سے یہ ایسا ہی تھا جیسے پوری کائنات ایک ہی سوال پوچھ رہی ہو۔ وسیع آسمان کہہ رہا ہو: کیا آپ کو کسی پناہ گاہ کی ضرورت ہے؟ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، تا کہ میں آپ کو پناہ گاہ مہیا کروں، کیونکہ خدا نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ چمکتا ہوا سورج کہہ رہا ہو: کیا آپ کو روشنی کی ضرورت ہے؟ میں یہاں روشنی کی فراہمی کے لیے اور آپ کے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ اونچے پہاڑ اعلان کر رہے ہوں: کیا آپ انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونا چاہتے ہیں؟ میں یہاں آپ کی خدمت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page