Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں ہر موقع پر وہ مطلوب رسپانس (required response) دے، جس کے لیے اس کے خالق نے اس کو موجودہ دنیا میں بھیجا ہے۔ شخصیت کی تعمیر خدا، انسان کا خالق ہے۔ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے انسان جو کچھ ہے، وہ تمام تر خدائی تخلیق کا نتیجہ ہے۔ لیکن موجودہ دنیا میں انسان کی جو شخصیت بنتی ہے، وہ انسان کی خود اپنی تعمیر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان پچاس فی صد، خدا کی تخلیق ہے اور پچاس فی صد خود اپنی تعمیر: Every human being is fifty percent God-made, and fifty percent self-made. انسان فطری طور پر ہر قسم کی صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن یہ صلاحیتیں اس کے اندر بالقوہ (potential) طور پر ہوتی ہیں۔ اس بالقوہ کو بالفعل (actual) بنانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ یہ ایک عظیم موقع ہے جو ہر عورت اور ہر مرد کو ملا ہوا ہے۔ یہ تمام تر انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اپنے بالقوہ کو بالفعل بنائے، یا اس کے بغیر ہی ایک ناکام انسان کے طور پر اس دنیا سے چلا جائے۔ بالقوہ کو بالفعل بنانا ایک مسلسل عمل ہے جو تاحیات جاری رہتا ہے۔ اس عمل کا آغاز سنجیدہ غور وفکر سے ہوتا ہے۔ سنجیدہ غور وفکر کے ذریعے آدمی سچائی کی دریافت تک پہنچتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کو ہر دن اپنا محاسبہ (introspection) کرنا پڑتا ہے۔ اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو تلاش کرے اور ان کی اصلاح کرکے اپنے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کے عمل کو جاری رکھے شخصیت کی تعمیر (personality building) کا یہ عمل آدمی خود کرتا ہے، لیکن اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page