تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
عمل کو درست طور پر جاری رکھنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اُس کو مسلسل طور پر خدا کی مدد حاصل رہے۔ اِس مدد کے حصول کا ذریعہ دعا ہے۔ دعا میں جینے والا آدمی ہی اپنی شخصیت کی تعمیر میں کامیاب ہوتا ہے۔ دعا کے بغیر یہ کام اپنی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ خام لوہا کی مانند ہوتا ہے۔ ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے خام لوہے کو ترقی دے کر اسٹیل بنائے۔ یہ کام ہر ایک کو کرنا ہے۔ اِس میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ کنڈیشنگ کا عمل انسان کی شخصیت کی تعمیر کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعُ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر (223)۔ یعنی، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، پس وہ اپنا سودا کرتا ہے، پھر وہ اپنے آپ کو آزاد کرتا ہے یا اپنے آپ کو تباہ کرلیتا ہے۔ اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں انسانی زندگی کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ خدا کے منصوبۂ تخلیق کے مطابق، موجودہ دنیا ہر ایک کے لیے امتحان کی جگہ ہے۔ ہر روز جب صبح ہوتی ہے تو وہ انسان کے لیے بیک وقت دو مختلف قسم کے امکانات کا دروازہ کھولتی ہے۔ وہ یا تو خدا کے منصوبے کے مطابق زندگی گزار کر اپنے آپ کو کامیابی کی طرف لے جائے، یا خدائی منصوبے کے خلاف ورزی کرکے اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں گرا لے۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ ایک ماحول کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے صبح و شام اس ماحول کے اندر گزارتا ہے، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے ماحول کا اثر قبول کرتا رہتا ہے۔ اس کو آج کی زبان میں کنڈیشنگ کا عمل (process of conditioning)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader