تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
جولائی 2001ء میں میرا ایک سفر سوئٹزر لینڈ کے لیے ہوا۔ ہمارا جہاز 25 جولائی کی صبح کو ٹھیک وقت پر زیورک، سویٹزر لینڈ پہنچ گیا۔ جہاز جب ایر پورٹ کے قریب پہنچ کر نیچے اترا تو چاروں طرف سرسبز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ایک خوبصورت دنیا تھی جو گویا فطرت کے سبزہ زار ماحول میں بنائی گئی تھی۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا: "It is like seeing paradise from a distance". مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے ایک نہایت حسین اور معیاری دنیا بنائی جہاں انسان ابدی طور پر پر مسرت زندگی گزار سکے۔ یہ جنت ہے۔ پھر اس نے ایک اور دنیا موجودہ زمین کی صورت میں بنائی۔ ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انتہائی انوکھا استثنا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، یعنی اس دنیا میں جنت کے مشابہ تمام چیزیں رکھ دی گئی ہیں (البقرہ، 2:25)۔ گویا موجودہ دنیا آخرت کی کامل جنت کا ایک ناقص تعارف ہے۔ یہ دنیا انسان کو اس لیے دی گئی ہے تا کہ وہ اس کے اندر جنت کی ابتدائی جھلک دیکھے اور پھر اس کا شکر ادا کر کے ابدی جنت کا مستحق بنے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (14:7)۔ یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو (جنت کی صورت میں) زیادہ دوں گا۔ ایک خط برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ مہاراشٹر کے سفر کے دوران 27 نومبر 2003 کو میں ناگپور پہنچا تھا۔ 29 نومبر کو واپسی ہوئی ۔ اس دوران کئی قیمتی قسم کے سبق آموز تجربے ہوئے۔ آپ ان تجربات کا ذریعہ بنے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ا۔ آپ نے ناگپور شہر دکھایا۔ چار سال پہلے میں ناگپور آیا تھا۔ اب اس سفر میں اندازہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader