Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے تھا جس کا اہتمام حکومت مالدیپ کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ 5 دسمبر 1987 ء کی صبح کو فجر سے پہلے گھر سے روانہ ہونا تھا۔ 4 دسمبر کی شام کو مختلف کاموں میں دیر ہوگئی اور میں ساڑھے بارہ بجے سے پہلے بستر پر نہ جاسکا۔ سوتے وقت دل سے دعا نکلی کہ خدایا مجھے تین بجے جگا دیجیے۔ تاخیر کی وجہ سے نیند بھی کسی قدر دیر میں آئی، اور میں سو گیا۔ میں بالکل گہری نیند سورہا تھا کہ خلافِ معمول اچانک نیند کھل گئی۔ دیکھا تو گھڑی کی ایک سوئی تین پر تھی اور دوسری سوئی بارہ پر۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ دل نے کہا کہ اللہ کی مدد ٹھیک اپنے وقت پر آتی ہے، اگر چہ انسان اپنی عجلت پسندی کی وجہ سے گھبرا اٹھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید خدا کی مدد آنے والی نہیں۔ ***** اردو کے ایک مرثیہ گو نے قدیم زمانہ میں حضرت حسین اور ان کے خاندان کے لوگوں کے سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین کو مختصر کر کے ان کا راستہ آسان بنا دو: طنابیں کھینچ کر کم کر زمیں کو کہ ہووے راہ کم ان مہ جبیں کو آج اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لیے ’’زمین کی طنابیں کھینچ کر‘‘ سفر کو مختصر بنا دیا ہے، یعنی جدید وسائل کے ذریعہ فاصلوں کو کم کر دیا ہے۔ مثلاً ہوائی جہاز کی سواری آج بہت زیادہ عام ہو چکی ہے۔ اس لیے لوگوں کو اس کے غیر معمولی پن کا احساس نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ ہوائی جہاز نے آج لمبے سفروں کو ہر آدمی کے لیے ممکن بنا دیا ہے ۔ ورنہ قدیم زمانے میں بہت ہی کم افراد لمبے سفر کا حوصلہ کر سکتے تھے۔ مگر قرآن کے مطابق ، انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو قابلِ شکر باتوں کو شدت کے ساتھ محسوس کریں اور شکر کے جذبات سے سرشار ہو جائیں (13 : 34)۔ *****

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page