تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو سپورٹنگ سسٹم کہا جا سکتا ہے۔ فطرت کے مطابق یہ ہونا چاہیے کہ سماج کا نظام مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ مبنی بر میرٹ سماج (merit based society) کے اندر فطری طور پر ایک موافق عمل قائم ہو جاتا ہے، جس کو آٹو میٹک چینلائزیشن (automatic channelization) کہا جا سکتا ہے۔ اس عمل (process) کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی آخر کار اپنی اس استثنائی خصوصیت کو دریافت کر لیتا ہے، جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر اس بات کا طاقت ور محرک پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سماج میں امتیازی درجہ حاصل کرے۔ یہ داخلی اسپرت اپنا کام کرتی ہے۔ آدمی نے اگر غلط چوائس (choice) لے لیا ہے تو وہ اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے چوائس کو بدلے، اور اس چوائس کو لے جس میں وہ بہتر (excel) کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس داخلی اسپرت کے ساتھ سماج کے اندر مبنی بر میرٹ نظام شامل ہو جائے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنے اس خصوصی رول کو پا لیتا ہے، جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا۔ یہی زندگی کی تعمیر کا فطری طریقہ ہے۔ کسی خود ساختہ طریقے سے اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا، خواہ بظاہر وہ کتنا ہی زیادہ خوش نما معلوم ہوتا ہو۔ تعمیر خویش کا طریقہ قرآن کی سورہ آل عمران میں ایک اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ﴿وَإِنۡ تَصۡبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيْدُهُمْ شَيْئًا﴾ (3:120)۔ یعنی، اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ قرآن کی یہ آیت فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader