تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے خارجی حالات سے اثر قبول کرنا۔ اس طرح ہر عورت اور ہر مرد کی شخصیت کی تعمیر ایک خارجی ماحول کے زیر اثر ہوتی ہے۔ اس عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنی اصل فطرت پر باقی رہنے کے بجائے اپنے ماحول کی پیداوار (product) بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے اپنے بارے میں دو قسم کے اختیار (options) ہوتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے ماحول کے حوالے کر دے۔ اس کے قریبی حالات اس کو جیسا بنائیں ویسا ہی وہ بنتا چلا جائے۔ اس کے قریبی حالات اگر اس کے اندر منفی شخصیت کی تعمیر کر رہے ہوں تو وہ اس سے متاثر ہوتا رہے، یہاں تک کہ وہ ایک منفی ذہن والا انسان بن جائے۔ یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔ اس کے برعکس، دوسرا انسان وہ ہے جو اپنے ذہن کو بیدار کرے، وہ اپنے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرے، وہ ذہنی اعتبار سے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ چیزوں کا آزادانہ تجزیہ کر سکے، وہ غیر متاثر انداز میں چیزوں کی قدر و قیمت متعین کرنا (evaluation) سیکھ لے۔ ایسا آدمی تاثر پذیری سے بچ جائے گا۔ وہ اپنے اندر ایک آزاد شخصیت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ زندگی کی تعمیر ہر انسان جو اس دنیا میں آتا ہے، وہ خالق کی طرف سے ایک منفرد صلاحیت (unique quality) لے کر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر انسان ایک غیر معمولی دماغ (mind) لے کر آتا ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے اپنی صلاحیت کو دریافت کرے، اور دانش مندانہ پلاننگ کے تحت اپنے پوٹینشل (potential) کو واقعہ (actual) بنائے ۔ ہر آدمی کامیابی کے ساتھ اس کو انجام دے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے ذہن کو استعمال کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader