صبر کیا ہے
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کیا ہے دنیا کے خالق نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں صبر کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا (الفرقان، 25:20)۔ صبر کیا ہے؟ صبر عمل کا الٹا نہیں ہے، بلکہ صبر عاجلانہ کارروائی کا الٹا ہے۔ صبر کے لفظی معنیٰ ہیں رکنا۔ عربی میں کہتے ہیں: صَبَرْتُ الدابّة (میں نے جانور کو چارے سے روک دیا)۔ صبر انسان کے اندر اعتدال پیدا کرتا ہے۔ صبر انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اپنی طاقت کو ضائع کرے ۔ صبر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اختلاف کو ٹکڑأ و تک نہ جانے دے ۔ صبر متحدہ جد و جہد کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر مایوسی کو امید میں تبدیل کرتا ہے۔ صبر آدمی کے اندر یہ پختگی (maturity) پیدا کرتا ہے کہ جو چیزیں بدلنے کے قابل ہیں، اُن کو وہ بدل لے اور ان چیزوں کے ساتھ وہ ایڈجسمنٹ کا معاملہ کرے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ شریعت میں جس صبر کا حکم دیا گیا ہے، اس کی حقیقت اسی سے سمجھی جاسکتی ہے۔ قرآن میں مومن کی صفات میں سے ایک صفت یہ بتائی گئی ہے: وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ (13:22)۔ اور جو لوگ صبر کرتے ہیں اللہ کی رضا چاہنے کے لیے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اصولی بنیاد پر صبر کرتے ہیں ۔ جب آدمی کو ٹھیس لگے اور وہ اللہ کی رضا کی خاطر صبر کر لے تو گویا اُس نے اصولی بنیاد پر صبر کیا۔ مجبوری کے تحت تو ہر آدمی صبر کر لیتا ہے، مگر مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سوچے سمجھے فیصلے کے تحت اس لیے صبر کرتا ہے کہ یہی اُس کے اصول کا تقاضا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُوْلَى (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1283)۔ صبر وہ ہے جو ابتدائے صدمہ کے وقت کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader