Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کا فلسفہ

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر کا فلسفہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں صبر (patience) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن میں تقریباً ایک سودس آیتیں ہیں جن میں صبر کے الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں تک کے صبر ہی پر کامیابی کا مدار رکھا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو صبر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ (3:200)۔ اسی طرح فرمایا کہ امامت یا لیڈر شپ میں کامیابی کا راز صبر ہے ۔ (السجدہ، 32:24) اسی حقیقت کو پیغمبر اسلام نے اپنی ایک لمبی حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا: اِعْلَمْ اَنَّ النَّصْرَمَعَ الصَّبْرِ (مسند احمد، حدیث نمبر 2803)۔ یعنی ، جان لو کہ کامیابی صبر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ صبر نہیں تو کامیابی نہیں۔ کامیابی کا درخت ہمیشہ صبر کی زمین پر اگتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے تمام پیسفسٹ (pacifist) یا پیں فل ایکٹیوسٹ (peaceful activist) اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا مشترک سبب یہ ہے کہ انہوں نے امن کو دریافت کیا مگر وہ صبر کو دریافت نہ کر سکے ۔ حالاں کہ صابرانہ روش کے بغیر پر امن تحریک کو چلانا ممکن نہیں۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ کسی کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر اس کے خلاف تحریک چلاتے ہیں۔ کسی گروہ کے مقابلے میں پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر تحریک چلانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے دل میں اس کے خلاف منفی جذبات نہ ہوں، اس کے مقابلے میں آپ مکمل طور پر مثبت نفسیات کے حامل ہوں ۔ یہی واحد بنیاد ہے جس کے اوپر پیس فل ایکٹوزم کی سرگرمیاں جاری ہو سکتی ہیں۔ مد مقابل گروہ کے لیے آپ کے دل میں اگر مثبت جذبات نہ ہوں تو آپ کبھی اپنے پر امن مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page