تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ تا کہ آدمی ناخوش گواریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مقصد اعلیٰ کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا کہ جو مصیبتیں تمہارے اوپر پڑیں ان پر صبر کرو (31:17) صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (8:46)۔ فرمایا کہ گھاٹے سے محفوظ رہنے والے لوگ وہ ہیں جو ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں (103:3)۔ اسی طرح حدیث میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِسْمَعُوا وَاَطِيعُوا وَاصْبِرُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 10008)، یعنی، سنو اور مانو اور صبر کرو۔ آپ نے فرمایا: فَاَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ بِالصَّبْرِ وَالْعَفْوِ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 3000)، یعنی، اللہ نے صبر اور عفو و درگزر کا حکم دیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ، وَاَهْلِ الْكِتَابِ، كَمَا اَمَرَهُمُ اللَّهُ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْاَذَى (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4566)، یعنی، رسول اور اصحاب رسول مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے، جیسا کہ اللہ نے ان کو حکم دیا تھا۔ اور ان کی ایذاؤں پر ہمیشہ صبر کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اسلامی عمل کی بنیاد ہے۔ فتنوں اور آزمائشوں کی اس دنیا میں صبر کے بغیر کوئی آدمی اسلامی کردار پر قائم نہیں رہ سکتا۔ صبر صبر کا مطلب ہے رکنا، اپنے آپ کو تھامنا۔ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اونچے آدرشوں کے مطابق دنیا میں زندگی گزارے۔ مگر دنیا میں قدم قدم پر ایسی ناپسندیدہ باتیں سامنے آتی ہیں جو آدمی کو بھڑکا دیں جو آدمی کے نشانہ کو اصل مقصد سے ہٹا کر دوسری طرف کر دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader