Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

جائے گا۔ صبر کا مطلب اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچانا ہے ، نہ کہ غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا۔ صبر کبھی عمل کا نام ہوتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو عمل سے روک لینے کا ، یہ دراصل حالات ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی موقع پر کون سا صبر مطلوب ہے۔ صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبر آدمی نتیجہ پر غور کیے بغیر حالات کے طوفان میں کود پڑتا ہے۔ اور صبر والا آدمی صورتِ حال پیش آجانے کے بعد پہلے سنجیدگی کے ساتھ غور کرتا ہے ، لوگوں سے مشورہ کرتا ہے ، اور سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت وہ کارروائی کرتا ہے جو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز ہو سکے۔ صبر حکمت عملی کا نام ہے اور بے صبری یہ ہے کہ آدمی وقتی کیفیت سے متاثر ہو کر ایسا اقدام کر بیٹھے جس کا حکمت اور دوراندیشی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ صبر کی تعلیم ایک مغربی مبصّر ولیم پیٹن (William Paton) نے لکھا ہے کہ اسلام کا ایک پھل انسانیت کے لیے یہ رہا ہے کہ اس نے لوگوں میں شدید اور مستقل صبر پیدا کیا۔ صبر کی یہ کیفیت ان میں اللہ کی کامل اطاعت سے پیدا ہوئی : One of the fruits of Islam has been that stubborn, durable patience which comes of the submission to the absolute will of Allah. یہ تبصرہ نہایت درست ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ قرآن کی بیشتر آیتیں ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر ، صبر ہی سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کی صفت ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر ایمان و اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو نا خوشگوار تجربات سے سابقہ پیش آتا ہے ، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی ۔ اب اگر آدمی ہر ایسے موقع پر لوگوں سے الجھ جائے تو وہ انسانی ترقی کی طرف زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اس لیے اسلام میں صبر کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page