Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ وہ انسانی مجموعہ کو اپنے اور غیر میں بانٹ دیتا ہے۔ اس کے اندر سے انسانی ہمدردی کا وہ جذبہ نکل جاتا ہے جو دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے۔ وہ ماحول ختم ہو جاتا ہے جس میں شکر خداوندی کے جذبات پرورش پائیں۔ صبر دین کا خلاصہ صبر دین کا خلاصہ ہے۔ صبر ہر قسم کی نیکیوں کی بنیاد ہے۔ صبر دنیا میں کامیابی کا زینہ ہے اور آخرت میں وہ جنت کی کنجی ہے۔ قرآن میں صبر کے بارے میں ایک ایسی آیت ہے جو کسی بھی دوسرے عمل کے بارے میں نہیں۔ فرمایا کہ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا: اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1469؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1053)۔ یعنی صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا کوئی عطیہ انسان کو نہیں دیا گیا۔ ابن حجر العسقلانی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: اَلصَّبْرُ جامع لمكارم الأخلاق (فتح الباری لابن حجر، جلد 11، صفحہ 305)۔ یعنی، صبر تمام اعلیٰ اخلاقیات کا جامع ہے۔ احادیث و آثار میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ صبر کی حیثیت ایمان میں وہی ہے جو حیثیت انسانی جسم میں سر کی ہے: اَلصَّبْرُ مِنَ الْإِيْمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ (الزہد لوکیع بن الجراح، حدیث نمبر 199)۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ: عَاقِبَةِ الصَّبْرِ الْجَمِيلِ جَمِيلَة (صید الخاطر، جلد 1، صفحہ 402)۔ یعنی، صبر جمیل کا انجام بھی جمیل ہے۔ ابن منظور نے لکھا ہے کہ: أصل الصَّبْرِ الحَبْسُ، والصَّبْرُ نقيض الجَزَع (لسان العرب،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page