تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
جلد 4، صفحہ 438)۔ یعنی، صبر کی اصل رُکنا ہے، صبر بے چین اور بے برداشت ہونے کا الٹا ہے۔ راغب الاصفھانی نے لکھا ہے کہ: الصبر الإمساك والصبر حبس النفس علی ما يقتضيه العقل والشرع (المفر دات الراغب الاصفھانی، جلد 1، صفحہ 273)۔ یعنی، صبر کی حقیقت امساک (پوری قوت سے کنٹرول کرنا) ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی عقل اور شریعت کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو روکے۔ صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے ۔ اس کی وجہ موجودہ دنیا کی صورت حال ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اسی امتحان یا آزمائش کی مصلحت کی بنا پر یہاں ہر شخص کو پوری آزادی دی گئی ہے۔ یہ انسانی آزادی خود خدا کے منصوبہ کے تحت ہے، اس لیے کوئی بھی اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ صبر بے عملی نہیں قرآن میں صبر کی غیر معمولی عظمت بیان ہوئی ہے۔ مثلاً صبر کو اولوالعزم پیغمبروں کا طریقہ بتایا گیا ہے (46:35)۔ صبر پر اعلیٰ ترین کامیابیوں کی بشارت ہے (7:137)۔ صبر قیادتِ عالم کا زینہ ہے (32:24)۔ صبر حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے (12:90)۔ حتیٰ کہ صبر وہ چیز ہے جو آدمی کو بے حساب اجر کا مستحق بناتا ہے (39:10)۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی معاملہ میں دیکھو کہ تم اس کو بدلنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہو تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ خود اس کو بدل دے: إِذَا رَأَيْتُمْ أَمْرًا لَا تَسْتَطِيعُونَ تَغْيِيرَهُ، فَاصْبِرُوا حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي يُغَيِّرُهُ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7685)۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنی زندگی کا خیر صبر ہی کے ذریعہ حاصل کیا ہے: وَجَدْنَا خَيْرَ عَيْشِنَا بِالصَّبْرِ (الزهد لوکیع بن الجراح، جلد 1، صفحہ 449)۔ ابن حجر العسقلانی نے صبر کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader