حکمتِ صبر
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت اور صبر موجودہ دنیا میں کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے حکمت اور صبر لازمی طور پر ضروری ہیں۔ حکمت اور صبر کے بغیر نہ دین کا کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا اور نہ دنیا کا۔ حکمت کی جڑ یہ ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہر قسم کے ظلم کے باوجود ظالموں سے نہیں لڑے۔ مگر مدینہ میں حسب ضرورت آپ نے ظالموں کا مقابلہ کیا۔ غزوہء حمراء الاسد کا سفر با آواز بلند کیا گیا۔ مگر فتح مکہ کے سفر میں آپ نے بلند آوازِی سے منع فرما دیا۔ معاہدہء حدیبیہ کے وقت آپ نے مکہ والوں کی یک طرفہ شرائط پر صلح کر لی۔ مگر بنو بکر اور بنو خزاعہ کا واقعہ پیش آنے کے بعد آپ نے مکہ کے سردار (ابو سفیان) کی تجدیدِ صلح کی پیش کش کو قبول نہیں فرمایا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی یہ ضروری ہوتا ہے کہ آدمی اپنے منہ میں زبان رکھتے ہوئے چپ ہو جائے۔ کبھی حالات اقدام کرنے کا تقاضا کرتے ہیں اور کبھی اقدام نہ کرنے کا۔ کبھی آگے بڑھنا افضل ہوتا ہے اور کبھی یہ افضل ہوتا ہے کہ آدمی پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے اپنے آپ کو راضی کرلے۔ اسی فرق کو جاننے کا نام حکمت ہے۔ صبر کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی ردعمل سے رک کے اور غیر متاثرہ ذہن کے تحت سوچ سمجھ کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ آپ سڑک پر اپنی گاڑی دوڑا رہے ہیں اور سامنے اچانک دوسری گاڑی آگئی۔ اب گاڑی کو روک کر اپنے لیے راستہ نکالنے کا نام صبر ہے، اور روکے بغیر گاڑی دوڑانے کا نام بے صبری۔ صبر کا طریقہ موجودہ دنیا میں کوئی حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لیے انتہائی حد تک ضروری ہے۔ جو ڈرائیور بے صبری کے ساتھ سڑک پر گاڑی چلائے، وہ خود بھی تباہ ہوگا اور اپنی گاڑی کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader