قرآنی طریقہ
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعی زندگی میں تلخی اور شکایت کے لمحات پیش آتے ہیں۔ یہ سب عین قانون قدرت کے تحت ہوتا ہے۔ اور جو چیز خود قدرت کے منصوبہ کے تحت پیش آئے اس کو ختم کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اب اس کا حل کیا ہے۔ قرآن میں واضح طور پر اس کا حل بتایا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ لوگ ردعمل کا طریقہ نہ اختیار کریں، بلکہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے حکمت اور تدبیر کے ساتھ معاملہ کریں: جہالت کے مقابلہ میں اعراض کرنا(7:199)۔ عمل سوء کے مقابلہ میں عمل حسن (41:34)۔ ایذارسانی کے مقابلہ میں صبر(14:12)۔ حمیت جاہلیہ کے مقابلہ میں سکینہ(48:26)۔ قرآن کی ان ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے دوسرے شخص کو اذیت پہنچائے تو دوسرے شخص کو جوابی طریقہ نہیں اختیار کرنا ہے، بلکہ برداشت کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ اس کو اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہونا ہے۔ اس کو نفرت کے جواب میں محبت کا تحفہ پیش کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا کرے تو قدرت کا قانون حرکت میں آ جائے گا اور وہ زیادہ بہتر طور پر اس کے مسئلہ کو حل کر دے گا۔ صبر واعراض انسان کا معاملہ نہیں، وہ حقیقتاً خدا کا معاملہ ہے۔ یہ خود خدا کی مرضی ہے کہ لوگ صبر کریں۔ کیونکہ اس کے بغیر خدا کا منصوبہ امتحان مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ثواب بہت ہے۔ بلکہ اس کا ثواب تمام دوسرے اعمال سے زیادہ ہے۔ قرآن میں خصوصی طور پر وعدہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کے لیے صبر کریں، ان کو ان کا اجر بے حساب مقدار میں دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader