Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ ایسے اقدام کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسلام میں صرف اسی اقدام کی اجازت ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ جو اقدام بے نتیجہ ہو کر رہ جائے یا جس اقدام کا الٹا انجام نکلنے والا ہو، وہ سنتِ رسول کے خلاف ہے۔ اور جو عمل سنتِ رسول کے خلاف ہو وہ بلاشبہ اللہ کے یہاں غیر مقبول قرار پائے گا۔ نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ مقرر کرنا اسلام ہے، اور نتیجہ سے بے پروا ہو کر جوش و جذبہ کے تحت اقدام کرنا نادانی۔ اسٹیٹس کو ازم ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا؟ قَالَ: سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3792)۔ یعنی اسید بن حضیر روایت کرتے ہیں کہ (مدینہ میں) انصار کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے کہا: آپ نے مجھے عامل نہیں بنایا، جیسا کہ فلاں کو عامل بنایا۔ آپ نے کہا: تم میرے بعد ترجیح دیکھو گے، تو تم لوگ صبر کرو، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔ صبر کا لفظ یہاں جامع معنی میں ہے۔ یعنی اسٹیٹس کو (status quo) کو مان لینا۔ جو ہے اس کو مان لینا، اور اس کا سبب نہ ڈھونڈ نا۔ یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ اختلاف کے وقت اگر سبب پوچھا جائے تو وہ صرف اختلاف کو بڑھائے گا، وہ اختلاف کو ختم کرنے والا نہیں۔ ایسے حالات میں صبر کا مطلب ہے سبب کو نہ ڈھونڈا جائے۔ ترجیح کا مطلب ہے ایک کے مقابلے میں دوسرے کو فیور (favour) دینا۔ بظاہر یہ ایک مسئلہ ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے صبر کرنے کی تلقین کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے مسائل اتنے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی حل نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page