Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتے، وہ ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اگر آدمی ان سے ٹکرائے یا ان کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرے تو عملاً ایسا کبھی ہوگا نہیں۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل بات یہ ہے کہ آدمی کے لیے جو ممکن ہے، وہ اس پر راضی ہو جائے۔ وہ اسٹیٹس کو (status quo) کو مان کر اپنی زندگی کا سفر جاری رکھے ۔ انسان کے لیے ٹکراؤ کرنے سے زیادہ مفید بات یہ ہے کہ وہ اسٹیٹس کو کو مان کر ممکن پر راضی ہو جائے ۔ تاکہ اس کو اپنی منصوبہ بندی کا موقع مل سکے ۔ کبھی اقدام نہ کرنا بھی عمل کی صورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ ایسی روش آدمی کو مزید نقصان سے بچاتی ہے۔ صبر کیوں قرآن وحدیث میں صبر (patience) پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ قرآن میں صبر کو سب سے زیادہ قابلِ انعام (most rewardable) عمل بتایا گیا ہے (10:39) ۔ صبر کیا ہے ۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اجتماعی زندگی میں ردِ عمل (reaction) سے بچے، اور ہر حال میں مثبت رویہ (positive behaviour) پر قائم رہے۔ اجتماعی زندگی میں اس کا رسپانس ہمیشہ مثبت رسپانس ہو، نہ کہ جوابی اندازِ کارسپانس۔ صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی سماج میں صبر واحد قابلِ عمل فارمولا (only workable formula) ہے۔ یعنی انسان کے خالق نے اس کو کامل آزادی کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ انسان آزاد ہے کہ وہ اپنی آزادی کو درست طور پر استعمال کرے یا غلط طور پر ۔ وہ اپنے عمل کی پلاننگ دوسروں کے ساتھ رعایت کرتے ہوئے کرے یا دوسروں کی رعایت کیے بغیر ۔ ایسی حالت میں اجتماعی زندگی میں ضروری ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ کرتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنائیں ۔ ایسا ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page