Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کی اہمیت

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

جس آدمی کے اندر بے صبری کا مادہ ہے، وہ اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں کرے گا۔ اس کا مزاج یہ ہوگا کہ جب وہ چاہے، اسی وقت اس کی مطلوب چیز مل جائے۔ اس کے برعکس، صبر والا آدمی اپنے کو دوسرے تقاضوں کے مطابق بنانے کی کوشش کرے گا۔ وہ چاہے گا کہ اس وقت تک انتظار کرے جب کہ اصول کے مطابق، اس کا مقرر وقت آجاۓ۔ وہ جانے گا کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہے۔ اس کا بنانے والا اللہ رب العالمین ہے۔ اس طرح وہ اپنی خواہش کو کنٹرول کرے گا، اور وہ اللہ کے مقرر قانون کی پیروی کرے گا۔ کیوں کہ وہ جانے گا کہ اللہ کے مقرر قانون کی تعمیل کیے بغیر پورا کام بننے والا نہیں۔ صبر کا اصول فریق اول کو اس سے بچاتا ہے کہ اس کا ذہن فریق ثانی کے بارے میں غیر معتدل ہو جاۓ۔ پرامن طریق کار(peaceful activism)معتدل ذہن کا اظہار ہے ۔ غیر معتدل یا منفی ذہن کبھی پرامن طریق کار کو کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا۔ صبر کا اصول دراصل اسی اعتدال یا مثبت مزاج کی برقراری کی ایک یقینی گارنٹی ہے۔ جو لوگ ناموافق حالات سامنے آنے کے باوجود نہ بدکیں ، اور قانون فطرت کے ساتھ اپنے کو باندھے رہیں، وہی وہ لوگ ہیں جو سنت الہی کے مطابق کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔ حکمتِ صبر ایمانی زندگی با اصول زندگی کا نام ہے۔ مومن انسان ایک بامقصد انسان ہوتا ہے۔ ایسا آدمی جذباتی رد عمل کے تحت کوئی اقدام نہیں کر سکتا۔ اس کے سامنے جب کوئی صورت حال آئے گی تو وہ رک کر سوچے گا کہ اس معاملے میں کون سا رد عمل میرے اصول اور مقصد کے مطابق ہے اور کون سا رد عمل میرے اصول اور مقصد کے خلاف ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیش آمدہ معاملات میں عاجلانہ جواب (hasty response) کا نام بے صبری ہے، اور سوچے سمجھے جواب (considered response) کا نام صبر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page