تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
منصوبہ اس دنیا میں قابلِ عمل منصوبہ ہے۔ اس کے برعکس، جس منصوبہ میں دوسروں کی رعایت شامل نہ ہو، وہ کبھی اس دنیا میں تکمیل تک پہنچنے والا نہیں۔ صبر بظاہر دوسروں کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا فائدہ خود صبر کرنے والے کو ملتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو صبر واحد نتیجہ خیز عمل ہے۔ اس کے برعکس، بے صبری (impatience) مثبت نتیجہ پیدا کرنے والا عمل نہیں۔ صبر کو دوسرے الفاظ میں نتیجہ خیز منصوبہ بندی (result oriented planning) کہا جا سکتا ہے۔ صبر کسی کے لیے دانش مندانہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، بے صبری ایک بے دانش کا عمل ہے۔ حیوان کے لیے بے صبری کا جواز ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ حیوان کے پاس عقل نہیں۔ مگر انسان کے لیے بے صبری کا کوئی جواز نہیں۔ کیوں کہ انسان کو عقل دی گئی ہے، جس کے ذریعہ وہ صبر کی اہمیت کو پیشگی طور پر سمجھ سکتا ہے۔ صبر کی اہمیت قرآن و حدیث میں صبر کی بہت زیادہ اہمیت بتائی گئی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا: اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ صبر کی یہ اہمیت کیوں ہے۔ صبر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صبر آدمی کو حقیقت پسند بنانے والا ہے۔ صبر آدمی کو منفی سوچ سے بچاتی ہے، اور مثبت سوچ والا انسان بناتی ہے۔ مثبت سوچ والا آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور منفی سوچ والا آدمی ہمیشہ ناکاماب۔ کیوں کہ منفی سوچ والا آدمی قدرت کے قانون کی پیروی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ والا انسان ہمیشہ فطرت کے قانون کی پیروی کر کے ہمیشہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader