Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان پر زندگی کے جو مختلف مرحلے پیش آتے ہیں، وہ ایک موقع کے طور پر پیش آتے ہیں ۔ زندگی کو جاننے والا شخص وہ ہے، جو زندگی کو ایک موقع کی صورت میں دریافت کرے، اور پھر منصوبہ بند انداز میں اس موقع کو استعمال کرے ۔ مشکل حالات منفی چیز نہیں۔ مشکل حالات یا چیلنج کسی انسانی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ جب کسی گروہ کے اندر ایسی حالت پیدا ہو، تو انسان اس کو فطرت کا تحفہ سمجھے، اور ڈی لرننگ کا طریقہ اختیار کر کے وہ اس کو بطور موقع اوویل کرے ۔ اس طرح نان کریٹو گروہ کریٹیو (creative) گروہ بن جائے گا۔ صبر کی نصیحت قرآن کی سورہ العصر میں اہل ایمان کی صفت بتاتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (103:3) ۔ یعنی، وہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرنے والے ہوتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں حق سے مراد اہل ایمان کی داخلی صفت ہے اور صبر سے مراد اہل ایمان کی وہ صفت ہے جس کا تعلق خارجی حالات سے ہے۔ ایمان کے معاملے میں اصل مطلوب چیز حق کا اتباع ہے۔ مومن وہ ہے جو حق کو شعوری طور پر دریافت کرے اور پھر عملاً اُس پر قائم ہو جائے ۔ مگر یہ فیصلہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں۔ جب ایک شخص اتباعِ حق کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ فیصلہ ایک ایسی دنیا میں ہوتا ہے جہاں طرح طرح کے مسائل ہیں۔ کبھی کوئی خارجی چیز اس کی خواہش (desire) یا اس کی انا (ego) کو بھڑکاتی ہے اور اس کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی خواہش سے متاثر ہو کر حق کے راستے سے ہٹ جائے۔ اسی طرح کبھی خارجی مشکلات سے اس کے ارادے میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ اس کو دوبارہ ثابت قدمی پر آمادہ کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page