Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وہ مواقع ہیں جو تواصی کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر اہل ایمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ایک دوسرے کے سچے مددگار بن جائیں۔ وہ خیر خواہانہ نصیحت کے ذریعے ایک دوسرے کو سنبھالیں۔ ایسے مواقع پر وہ ایک دوسرے کو درست مشورہ دے کر یہ کوشش کریں کہ اُن کا ساتھی حق سے منحرف نہ ہونے پائے، وہ صبر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بدستور حق پر قائم رہے۔ تواصی کا مطلب باہمی نصیحت یا باہمی مشورہ ہے۔ مشورہ کی کچھ لازمی شرطیں ہیں— ایک یہ کہ وہ مبنی بر خیر خواہی مشورہ ہو اور دوسرے یہ کہ وہ عملی طور پر ایک ممکن العمل مشورہ ہو۔ حقیقی تواصی وہی ہے جس میں یہ شرطیں پائی جائیں۔ تواصی بالحق سے مراد نظری معاملے میں تواصی ہے اور تواصی بالصبر سے مراد عملی معاملے میں تواصی۔ سیلف ڈسپلن مارکسی لیڈر جوزف اسٹالن (Joseph Stalin) نے اشتراکی انقلاب (1917ء) سے پہلے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہم کو انقلاب کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے: اول ہتھیار، دوم ہتھیار، سوم ہتھیار، آخر میں پھر ہتھیار۔ یہ جھوٹے انقلاب کا فارمولا تھا۔ سچے انقلاب کا فارمولا یہ ہے— اول صبر، دوم صبر، سوم صبر، آخر میں پھر صبر۔ صبر کیا ہے، صبر دراصل امن پر مبنی دانش مندانہ منصوبہ بندی (planning) کا نام ہے۔ صبر یہ ہے کہ وقت اور طاقت کا کوئی معمولی حصہ بھی بے فائدہ ٹکراؤ میں ضائع نہ کیا جائے، بلکہ ساری حاصل شدہ توانائی کو صرف ایک مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، یعنی ٹکراؤ کو نظر انداز کرنا اور دستیاب مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کرنا۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی رد عمل (reaction) سے اپنے آپ کو بچائے، وہ دانش مندانہ تدبیر کے ذریعے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ صابرانہ منصوبہ بندی صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، جو حالات کا عامل بن جائے، نہ کہ حالات کا معمول۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page