صبر کا مہینہ
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
( شعب الايمان للبیہقی ، حدیث نمبر 3336 )۔ یعنی اے لوگو ، ایک عظیم مہینہ تمھارے لیے آرہا ہے۔ یہ ایک بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے کو فرض قرار دیا ہے اور اس مہینے کی رات میں قیام کو تطوع قرار دیا ہے۔ رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔ اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ ’’صبر کا مہینہ‘‘ کا مطلب ہے ۔ مشقت کا مہینہ ۔ رمضان کے مہینے میں آدمی کو اپنے معمولات کو توڑنا پڑتا ہے۔ اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پیاس کے باوجود پانی نہ پئے ، اور بھوک کے باوجود کھانا نہ کھائے ، وہ اپنی خواہشات (desires) کو کنٹرول میں رکھے۔ رمضان کو اگر درست طور پر گزارا جائے تو پورا کا پورا مہینہ مشقتوں کا مہینہ بن جائے گا۔ بچے روزہ دار کے لیے رمضان کا مہینہ مسلسل صبر کا مہینہ ہے ، دن کے اوقات میں بھی اور رات کے اوقات میں بھی۔ جو عمل صبر کی قیمت پر کیا جائے ، وہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی عمل ہوتا ہے۔ عام حالات میں انسان جو عمل کرتا ہے ، اُس میں اُس کی شخصیت کا صرف جزئی حصہ شامل ہوتا ہے۔ لیکن جس عمل کو انجام دینے کے لیے صبر کرنا پڑے ، اُس میں آدمی کی پوری شخصیت فعال (active) طور پر شامل ہو جاتی ہے۔ یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ عام عمل کے مقابلے میں، صابرانہ عمل کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اس بنا پر اُس کی جزا بھی۔ رمضان کو پانے والا وہ ہے جس کے لیے رمضان کا مہینہ حقیقی معنوں میں صابرانہ زندگی کی تیاری کا مہینہ بن جائے ، ایسی صابرانہ زندگی جو پورے سال کے لیے آدمی کو صبر کے راستے پر قائم رکھنے والی بن جائے۔ تواصی بالحق، تواصی بالصبر 27 اگست 2007 ء کو میں نے رات میں ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آواز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader