Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹکراؤ سے اعراض کرنا، صرف ایک اخلاقی معاملہ نہیں، بلکہ یہ خود اپنی تعمیر (self development) کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب آپ ٹکراؤ سے بچتے ہیں تو نتیجے کے اعتبار سے اس کا دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا وقت بچایا، آپ نے اپنی توانائی بچائی، آپ نے اپنا مال بچایا، آپ نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا کہ کسی وقفے کے بغیر اپنی زندگی کا سفر جاری رکھیں ۔ آپ غیر ضروری طور پر ذہنی تناؤ (tension) کا شکار نہیں ہوئے، آپ نے اپنے ذہن کو کامل طور پر مثبت سوچ کے لیے فارغ رکھا، وغیرہ۔ کامیاب زندگی پچاس فی صد خود اپنے استعمال کا نام ہے، اور پچاس فی صد دوسروں سے موافقت (adjustment) کرنے کا نام ہے۔ یہ ایک اٹل فطری قانون ہے، اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ کامیابی کے لیے دونوں ہی چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ جو انسان اس تقسیم پر راضی نہ ہو، اس کو اپنے لیے ایک اور دنیا کی تخلیق کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں اس کے سوا زندگی کی کوئی اور صورت ممکن نہیں۔ صبر کا مہینہ حضرت سلمان فارسی کی ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ـــ شعبان کے مہینے کے آخری دن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطاب فرمایا۔ یہ ایک تفصیلی حدیث ہے۔ اس کے کچھ حصے یہ ہیں: يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللَّهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً، وَقِيَامَ لَيْلَهِ تَطَوُّعًا، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيهِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page