صبر کا مہینہ
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت حاصل ہو۔ یہ معرفت ایک انسان کے لیے ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی نے اپنی تلاش کا جواب پالیا۔ آدمی کو اپنی فکری سرگرمیوں کے لیے صحیح فریم ورک مل گیا۔ آدمی کو ظاہری بصارت کے ساتھ، داخلی بصیرت کی روشنی حاصل ہوگئی۔ آدمی کو اپنی ذہنی تک ودو کا مرکز حاصل ہوگیا۔ آدمی کے اندر اُس ہستی کا شعور پیدا ہوگیا، جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرے اور جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرے ۔ اس کورس کا دوسرا جز ء عمل صالح ہے۔ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو عین حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ عمل صالح کی اس فہرست میں ذکر ودعا ، عبادات، اخلاق اور معاملات ، وغیرہ سب شامل ہیں ۔ ہر وہ کام جس میں انسان کا جسمانی وجود شامل ہوتا ہے، وہ سب اُس کا عمل ہے اور یہ مطلوب ہے کہ ان تمام اعمال کو صالحیت کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی عمل کی دو قسمیں ہیں: ایک، خودرخی (self-oriented) عمل اور دوسرا، خدا رُخی (God-oriented) عمل ۔ اسلامی شریعت میں خودرخی عمل کا دوسرا نام غیر صالح عمل ہے اور خدا رخی عمل کا دوسرا نام صالح عمل ۔ اس کورس کا تیسرا جز و تواصی ہے۔ تواصی میں مشارکت پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے ایک دوسرے کو نصیحت کرنا۔ دو آدمی ایک دوسرے کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت، سنجیدہ موضوعات پر ایک دوسرے کے ساتھ جو گفتگو کریں، اُس کا نام تواصی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ تواصی نام ہے باہمی تبادلۂ خیال (mutual discussion) کا۔ دینی موضوعات پر باہمی ڈسکشن کسی مومن کی زندگی کا اُسی طرح ایک ناگزیر حصہ ہے، جس طرح ایمان اور عمل صالح ۔ یہ باہمی تبادلۂ خیال، یا انٹلیکچول ایکسچینج (intellectual exchange) ذہنی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹلیکچول ایکسچینج کے بغیر ذہنی ترقی بالکل ممکن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader