Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کا مہینہ

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ۔ جب دو آدمی سنجیدگی کے ساتھ ایک موضوع پر تبادلۂ خیال کریں تو دو آدمیوں کی گفتگو کے دوران ایک تیسرا تصور ایمرج (emerge) کرتا ہے، جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے، یعنی چنگاری۔ اسی طرح باہمی تبادلۂ خیال دونوں کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے تواصی کے اِس عمل کا موضوع صرف دو ہے، اور وہ ہے حق اور صبر۔ حق میں تمام مثبت موضوعات شامل ہیں۔ مثلاً قرآن اور حدیث کے گہرے معانی کو سمجھنے کے لیے باہمی تبادلۂ خیال کرنا۔ یہ مقصد صرف قرآن کی تلاوت سے حاصل نہیں ہوتا۔ اُس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث کو چرچا اور تبادلۂ خیال کا موضوع بنا دیا جائے۔ یہ مقصد صرف سنجیدہ ڈسکشن کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ مثلاً ہر گھر میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ کبھی کسی نقصان کا تجربہ ہوتا ہے اور کبھی کسی فائدے کا تجربہ۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گھروں میں نقصان کے واقعے کو لے کر لوگ منفی انداز میں بولنے لگتے ہیں۔ اسی طرح فائدے کے واقعے کو لے کر خوشی اور فخر کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ایسے موقع پر قرآن کی آیت: لِكَيْلاَ تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ (57:23) کو چرچا کا موضوع بنایا جائے۔ یعنی، تا کہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا ۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔ دوسرے الفاظ میں، اگر نقصان کا تجربہ ہو تو اُس پر اس انداز سے آپس میں بات کی جائے کہ مایوسی کا احساس لوگوں کے اندر سے ختم ہو جائے ۔ اور اگر فائدے کا تجربہ ہو، تب بھی اُس پر اس انداز سے باہم گفتگو کی جائے کہ لوگوں کے اندر فخر کے بجائے شکر کا جذبہ پیدا ہو۔ اسی طرح نئے واقعات بھی اس تواصی کا موضوع بن سکتے ہیں۔ مثلاً حال میں چھپی ہوئی ایک کتاب کے اندر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ مدر ٹریسا (وفات 1997ء) جو تقریباً بیسٹر سال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page