Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر کا مہینہ

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرُّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا (33:33)۔ یعنی، اللہ تو چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے آلودگی کو دور کرے اور تم کو پوری طرح پاک کر دے۔ اس آیت میں بظاہر اہل بیتِ رسول کا ذکر ہے، مگر یہاں مخصوص ریفرنس (particular reference) میں ایک جنر ل تعلیم دی گئی ہے۔ اس اعتبار سے یہاں ہر صاحبِ ایمان کے اہل بیت مراد ہیں۔ اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر ہے — رجس کو دور کرنا اور تطہیر کرنا۔ بظاہر ان دونوں عمل کو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جس کو تواصی کہا گیا ہے۔ تواصی کا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کے لیے کیا۔ اسی طرح ہر اہل ایمان عورت اور مرد کو اپنے اہل بیت پر تواصی کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ اہل بیت کی تواصی سے مراد سادہ طور پر خاندان کی اصلاح نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مومن خاندان کے اندر یہ ماحول ہونا چاہیے کہ افراد خاندان ایک دوسرے کے ساتھ تواصی میں شریک ہو جائیں۔ ہر گھر میں ایسا ہونا چاہیے کہ لوگوں کے درمیان چرچا یا تبادلۂ خیال صرف دو موضوعات پر ہو، یعنی حق کے موضوع پر اور صبر کے موضوع پر۔ ہر خاندان میں یہ ماحول ہو کہ دُنیاوی چیزیں ضرورت کے خانے میں ڈال دی جائیں، دُنیاوی چیزیں اہل خاندان کے درمیان چرچا کا موضوع نہ ہوں، بلکہ چرچا کا موضوع صرف وہ چیزیں ہوں جن کا تعلق دین اور آخرت سے ہو۔ مزید غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ہر انسان کے لیے خدا نے اُس کے اہل بیت کی صورت میں ایک فطری گروپ فراہم کر دیا ہے، جس کے ذریعے وہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی عبادت کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور عملِ صالح کے بعد ہر مومن کی ایک اور ضرورت ہے اور وہ ہے اس کا ذہنی ارتقا ۔ اس ذہنی ارتقا میں مطالعہ اور مشاہدہ کے علاوہ اِنٹلکچول ایکسچینج بہت زیادہ اہم ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page